فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک سپر کار ’لُوچے‘ (Luce) کے متعارف ہونے کے بعد آٹو انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اس گاڑی کی مالیت تقریباً 640,000 ڈالر (پاکستانی روپے میں لگ بھگ 18 کروڑ روپے) بتائی جا رہی ہے۔
یہ ماڈل معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تصور کے تحت تیار کیا گیا ہے اور اسے فراری کے لیے ایک بڑی ٹیکنالوجیکل تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ گاڑی صرف 2.5 سیکنڈ میں 0 سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 190 میل فی گھنٹہ سے زائد ہے۔
تقریب رونمائی اور ردِعمل
روم میں ہونے والی اس گاڑی کی شاندار تقریب رونمائی میں اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تاہم اس کے فوراً بعد ہی گاڑی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
فراری کے شیئرز میں تقریب کے بعد تقریباً 8 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے گاڑی کے ڈیزائن کو مختلف آرا کا نشانہ بنایا، جبکہ کچھ ناقدین نے اسے برانڈ کی روایتی شناخت سے ہٹ کر قرار دیا۔

ڈیزائن پر سب سے زیادہ اعتراض
،Shaun Bak
تنقید کرنے والوں کے مطابق لُوچے کا ڈیزائن روایتی فراری سپر کارز جیسا اسپورٹی اور کم ہائیٹ نہیں ہے۔ مزید یہ کہ الیکٹرک ہونے کی وجہ سے اس میں انجن کی روایتی آواز بھی موجود نہیں، جسے فراری کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مذید پڑھئِے
پاکستان آٹو انڈسٹری 2026 کا دوسرا نصف : 23 نئی گاڑیاں – urdureport.com
سائنسدانوں نے کمال کر دیا ،مصنوعی انڈوں سے چوزوں کی پیدائش – urdureport.com
فراری کے سابق چیئرمین لوکا کورڈیرو ڈی مونتیزیمولو نے اسے کمپنی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ماڈل برانڈ کی تاریخی شناخت کو متاثر کر سکتا ہے۔
اسی طرح بعض آٹو ڈیلرز اور کلیکٹرز نے بھی اس ڈیزائن کو غیر متاثر کن قرار دیا، جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اسے دیگر الیکٹرک گاڑیوں سے مشابہ قرار دیا۔
کمپنی کا مؤقف
فراری کے موجودہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل کمپنی کی جدت (Innovation) کا حصہ ہے اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق لُوچے کی قیمت اس کی جدید انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی عکاسی کرتی ہے۔
آٹو انڈسٹری کا بدلتا رجحان
ماہرین کے مطابق عالمی آٹو انڈسٹری تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف بڑھ رہی ہے، اور فراری کا یہ قدم اسی تبدیلی کا حصہ ہے۔ تاہم لگژری سپر کار برانڈز کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی روایتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی اپنانا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اس گاڑی کو تنقید کا سامنا ہے، لیکن یہ مارکیٹ میں ایک نئے طبقے کو بھی متوجہ کر سکتی ہے جو الیکٹرک لگژری گاڑیوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔


