لاہور ہائی کورٹ نے موٹروے گینگ ریپ کیس میں مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں مجرموں کو دی گئی سزائیں قانون اور شواہد کے مطابق درست ہیں۔پراسیکیوشن نے اس کو بڑی کامیابی قرار دیا جبکہ عالمی سطح پر بھی اس فیصلے کو سراہا گیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد پراسکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی تھی اور اسے منطقی انجام تک پہنچانا ایک بڑا چیلنج تھا۔ ان کے مطابق پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے کیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ فیصلہ جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا، جس نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
پراسکیوٹر جنرل کا بیان
پراسکیوٹر جنرل نے کہا کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک خاتون اپنی گاڑی میں بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھیں اور گاڑی کا پیٹرول ختم ہونے کے باعث وہ سڑک پر رکی ہوئی تھیں، اسی دوران ملزمان نے انہیں نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ابتدائی کارروائی ایک شہری کی ون فائیو کال پر شروع ہوئی جس کے بعد پولیس نے فوری ردعمل دیا۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کی نشاندہی، عینی بیان اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھائی گئیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے عابد ملہی کا تعلق جائے وقوعہ سے ثابت ہوا، جبکہ دوسرے ملزم شفقت بگا کو سی ڈی آر ریکارڈ کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
فرہاد علی شاہ کے مطابق پراسکیوشن نے دن رات محنت کرتے ہوئے نہ صرف ٹرائل کورٹ میں ملزمان کو سزا دلوانے میں کردار ادا کیا بلکہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی سزائیں برقرار رکھنے کے لیے مؤثر دلائل پیش کیے۔
ریاستی اداروں کی مشترکہ کوشش
انہوں نے کہا کہ یہ کیس ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے اور اس سے یہ پیغام گیا ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔ ان کے مطابق معاشرے میں ایسے فیصلے انصاف کے نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔
مذید خبریں
لاھور 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ زیادتی کیس میں نیا موڑ،ریکارڈ طلب – urdureport.com
برطانیہ ! 15 ملزمان کو کمسن لڑکی سے زیادتی کیس میں 188 سال قید – urdureport.com
واضح رہے کہ 9 ستمبر 2020 کو موٹروے کے قریب یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مختلف شواہد اور تکنیکی ذرائع کی مدد سے دونوں ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 20 مارچ 2021 کو انہیں سزائے موت سمیت دیگر سزائیں سنائی تھیں، جن کے خلاف اپیلیں بعد میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھیں۔


