صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی Belly Fat صرف ظاہری شکل کو متاثر نہیں کرتی بلکہ یہ کئی سنگین بیماریوں، خصوصاً ذیابیطس، دل کے امراض اور موٹاپے کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ وزن کم کرنے کے لیے مختلف ڈائٹس اور ورزشوں پر زور دیا جاتا ہے، تاہم ایک سادہ سی عادت بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھانے کے بعد مختصر دورانیے کی واک جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور اضافی چربی کے جمع ہونے کے عمل کو سست کر سکتی ہے۔
کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی
تحقیقی مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی جسم کو خون میں موجود گلوکوز بہتر انداز میں استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس طرح توانائی کے اضافی ذخائر چربی میں تبدیل ہونے کے بجائے جسمانی سرگرمی میں استعمال ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق روزانہ صرف 10 سے 15 منٹ کی واک ہاضمے کو بہتر بنانے، پیٹ کے بھاری پن کو کم کرنے اور میٹابولزم کو متحرک رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ عادت خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے اور دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔
کھانے کے بعد واک کب کریں
طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ کھانا ختم کرنے کے فوراً بعد چلنے کے بجائے چند منٹ انتظار کیا جائے اور پھر معتدل رفتار سے واک کی جائے۔ ان کے مطابق کھانے کے فوراً بعد سخت ورزش یا تیز دوڑ نظامِ ہاضمہ پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
یہ معمول خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید قرار دیا جاتا ہے جو پیٹ کی چربی کم کرنا چاہتے ہیں، ذیابیطس Diabetes Prevention کا شکار ہیں یا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ ہاضمے کے مسائل رکھنے والے افراد بھی اس عادت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
مذید خبریں
ایک کیلا روزانہ صحت مند زندگی کی ضمانت کیسے؟ – urdureport.com
سائنسدانوں نے کمال کر دیا ،مصنوعی انڈوں سے چوزوں کی پیدائش – urdureport.com
چوہوں سے لگنے والا نایاب ہینٹا وائرس دنیا میں تشویش کی علامت بن گیا – urdureport.com
ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی کے ساتھ اس معمول کو اپنانے سے چند ہفتوں میں مثبت تبدیلیاں محسوس کی جا سکتی ہیں، جبکہ بہتر نتائج کے لیے متوازن غذا، مناسب نیند اور پانی کا استعمال بھی ضروری ہے۔
ان کے مطابق کھانے کے بعد مختصر واک ایک آسان، کم خرچ اور مؤثر عادت ہے جو طویل مدت میں مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔


