بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والے کروز شپ MV Hondius پر تین افراد کی ہلاکت کے بعد نایاب بیماری ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ World Health Organization کے مطابق جہاز پر ایک ہینٹا وائرس کیس کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ مزید پانچ مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ جہاز ارجنٹینا سے روانہ ہو کر کیپ وردے جا رہا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت عوام کے لیے خطرہ کم ہے، تاہم ماہرین اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ وائرس جہاز پر کیسے پھیلا۔
ہینٹا وائرس کیا ہے ؟
ہینٹا وائرس Hantavirus ایک نایاب مگر خطرناک بیماری ہے جو عموماً متاثرہ چوہوں کے پیشاب، فضلے یا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔
یہ وائرس ابتدا میں عام فلو جیسی علامات پیدا کرتا ہے جن میں بخار، تھکن، سردی لگنا اور جسمانی درد شامل ہیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ پھیپھڑوں، دل یا گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری، اعضا کے ناکارہ ہونے اور موت تک کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں کہ جہاز پر یہ وبا کیسے پھیلی۔ ایک امکان یہ ہے کہ چوہے جہاز میں موجود ہوں، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ مسافر ارجنٹینا کی بندرگاہ پر وائرس سے متاثر ہوئے ہوں کیونکہ اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے میں ایک سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔
Centers for Disease Control and Prevention کے مطابق ہینٹا وائرس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، اس لیے احتیاط ہی بہترین بچاؤ ہے، جس میں چوہوں کو گھروں سے دور رکھنا اور ان کے فضلے کو محفوظ طریقے سے صاف کرنا شامل ہے۔
مزید پڑھئِے


