امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور تازہ سرویز کے مطابق وہ اپنے سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران جنگ میں چڑھائی ایرانی سپریم لیڈر پر حملہ اور دیگر عوامل نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این پول CNN Poll of Polls کے مطابق ان کی اوسط منظوری کی شرح 35 فیصد تک گر گئی ہے، جو نہ صرف ان کی پہلی صدارتی مدت بلکہ 6 جنوری 2021 کے کیپیٹل ہل حملے کے بعد کے دور سے بھی کم تصور کی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کا آغاز ان کی دوسری مدت صدارت کے آغاز ہی سے ہوگیا تھا۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے 6 جنوری کے بیشتر ملزمان کو معافی دی، جبکہ ایلون مسک کی سربراہی میں سرکاری اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کے فیصلے بھی عوام میں غیر مقبول ثابت ہوئے۔
اس کے بعد اپریل 2025 میں ان کے متنازع "Liberation Day” ٹیرف اعلان نے صورتحال مزید خراب کردی، جس کے نتیجے میں امریکہ کئی ممالک کے ساتھ تجارتی کشیدگی میں الجھ گیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ان میں سے کئی ٹیرف غیر قانونی قرار دیے، جبکہ مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی غصے میں مزید اضافہ کیا۔
ایران جنگ ٹرمپ کے لیے جھٹکا
ٹرمپ کے لیے حالیہ مہینوں میں سب سے بڑا دھچکا ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں معاشی دباؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ سرویز کے مطابق 61 فیصد امریکی اس جنگ کو غلطی سمجھتے ہیں، جبکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ان کی معاشی کارکردگی کی منظوری کی شرح 31 فیصد تک گر چکی ہے۔
اسی طرح سخت امیگریشن کریک ڈاؤن، منی ایپولس میں دو شہریوں کی ہلاکت اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل پر ناکافی توجہ نے بھی ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ عوامی اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہے تو امریکی تاریخ کے مطابق کم مقبول صدور کی طرح ان کی جماعت کو بھی وسط مدتی انتخابات میں بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھئِے


