وینزویلا سے تقریباً 13 کلوگرام اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم ایک انتہائی خفیہ اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت امریکہ منتقل کر دیا گیا۔ اس کارروائی میں وینزویلا، امریکہ، برطانیہ اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
رپورٹس کے مطابق جوہری مواد کو وینزویلا کے تحقیقی ادارے آئی وی آئی سی (IVIC) سے فوجی نگرانی میں ریاست کارابوبو کی بندرگاہ تک پہنچایا گیا، جہاں سے اسے خصوصی انتظامات کے تحت بحری جہاز کے ذریعے امریکہ روانہ کیا گیا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر کئی سال تک کام کیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حساس جوہری مواد کسی بھی ممکنہ خطرے یا غیر مجاز استعمال سے محفوظ رہے۔
ماہرین کا موقف
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس یورینیم میں ہتھیار سازی کے درجے کی افزودگی موجود نہیں تھی، تاہم مزید پروسیسنگ کے بعد اسے جوہری ہتھیاروں کے لیے استعمال کیے جانے والے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی منتقلی کو عالمی جوہری سلامتی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ یورینیم دراصل آر وی-ون (RV-1) نامی تحقیقی ری ایکٹر کا ایندھن تھا، جو 1960 کی دہائی میں امریکی "ایٹمز فار پیس” پروگرام کے تحت وینزویلا میں نصب کیا گیا تھا۔ یہ ری ایکٹر کئی دہائیوں تک سائنسی تحقیق کے لیے استعمال ہوتا رہا، تاہم بعد میں اسے بند کر دیا گیا اور جوہری ایندھن محفوظ مقام پر رکھا گیا۔
مذید خبریں
وینزویلا نے 2017 میں باقی ماندہ جوہری ایندھن ہٹانے کے لیے بین الاقوامی مدد طلب کی تھی۔ بعد ازاں عالمی جوہری توانائی ایجنسی اور برطانوی حکام بھی اس منصوبے میں شامل ہو گئے۔ رواں سال کے آغاز میں وینزویلا کی سیاسی و سکیورٹی صورتحال میں تبدیلی کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد تیز کر دیا گیا۔
افزودوہ یورینیم امریکہ کہاں منتقل کیا گیا؟
منتقل کیے گئے یورینیم کو برطانوی جہاز "پیسیفک ایگریٹ” کے ذریعے امریکہ کی ریاست جنوبی کیرولائنا میں واقع سوانا ریور نیوکلیئر سائٹ پہنچایا گیا، جہاں اس کی مزید پروسیسنگ اور محفوظ انتظام کیا جائے گا۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں پرانے تحقیقی ری ایکٹروں میں استعمال ہونے والے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کو مرحلہ وار کم افزودہ یورینیم سے تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ جوہری مواد کے پھیلاؤ اور سلامتی سے متعلق خطرات کو کم کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا سے یورینیم کی منتقلی بھی اسی عالمی کوشش کا حصہ ہے، جس کا مقصد حساس جوہری مواد کو محفوظ بنانا اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔
مذید خبریں


