جھنگ میں 17 سالہ طالبہ ایشال فاطمہ کے اغوا اور مبینہ جنسی زیادتی کے کیس میں پولیس نے تمام مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ایشال فاطمہ کو جھنگ کی سلطان کالونی سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ملزمان اسے نیم بے ہوشی کی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لے کر آئے اور وہاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ لڑکی دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے رات گئے چھاپوں کے دوران چاروں ملزمان، خلیل الرحمان، امیش جوگی، حسن کوریانہ اور حسیب خان کو گرفتار کر لیا۔پولیس نے وہ گاڑی بھی تحویل میں لے لی ہے جس میں متاثرہ لڑکی کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
جھنگ ہائی فروفائل ایشال فاطمہ کیس
جس کو ملزمان اغوا کے بعد تین دن تک مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بناتے رۃے اور حالت غیر ہونے پر ہسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ pic.twitter.com/RTHSL4ckLy— Urdu Report (@UrduReportpk) June 9, 2026
متوفیہ کے والد نے اغوا کا مقدمہ درج کرا دیا ہے جبکہ مقدمے میں قتل اور دیگر سنگین دفعات شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے ہسپتال سے ادویات کے نمونے اور دیگر شواہد بھی اکٹھے کر لیے ہیں۔پولیس اور سی سی ڈی حکام اب ملزمان کے ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ہائی پروفائل کیس قرار
دوسری جانب پنجاب میں حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے ایک ہائی پروفائل کیس قرار دیا ہے۔انہوں نے تفتیشی افسر کو 11 جون کو کیس کا مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
مذید خبریں
کوئٹہ تیزاب حملہ کیس: خاتون ڈاکٹر کراچی منتقل ، اصل ملزم کون تھا؟ – urdureport.com
لاھور 18 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ زیادتی کیس میں نیا موڑ،ریکارڈ طلب – urdureport.com
لندن میں روحانی علاج کے بہانے جنسی زیادتی کے ملزم امام مسجد کو عمر قید – urdureport.com
یہ ایک زیرِ تفتیش مقدمہ ہے، لہٰذا حتمی حقائق اور الزامات کی قانونی حیثیت عدالت اور تفتیشی اداروں کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوگی۔
کیس کے واقعات
جھنگ میں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ایشال فاطمہ جان بحق ہو گئِ ۔ ایشال فاطمہ سترہ سالہ بچی گیارویں کلاس کی طالبہ تھی جو امتحان دینے کے لیے گھر سے رولنمبر سلپ لینے کے لیے گئی تو راستے میں اوباش نوجوانوں نے اغواء کر تین دن اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے لڑکی کی حالت غیر ہونے پر ملزمان بچی کو تشویشناک حالت میں ہسپتال چھوڑ کر فرار ہوگئے ڈاکٹروں کی انتھک کوششوں کے باوجود بچی جانبر نہ ہو سکی اور جانبحق ہوگئی۔


