آزاد جموں و کشمیر میں سیاسی کشیدگی نے نیا رخ اختیار کر لیا، جہاں کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر مختلف اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ متعدد مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، باغ اور راولاکوٹ سمیت کئی شہروں میں کاروباری مراکز، بینک اور پیٹرول پمپس بند رہے۔ سرکاری دفاتر کھلے ہونے کے باوجود ملازمین کی حاضری معمول سے بہت کم رہی جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی محدود دیکھی گئی۔
مظاہرین کا مطالبہ
احتجاجی تحریک کا بنیادی مطالبہ کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے سے متعلق حکومتی پالیسی پر نظرثانی ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف علاقوں سے لانگ مارچ کی شکل میں قافلے روانہ ہوئے جنہیں کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز نے روکنے کی کوشش کی۔
بغاوت کا مقدمہ
ادھر حکومت آزاد کشمیر نے کالعدم تنظیم کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے شوکت نواز میر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ آزاد جموں و کشمیر کی دفعہ 124 اے کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں ریاست کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر، بیانات اور مواد پھیلانے کے الزامات شامل ہیں۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کو قانونی کارروائی مکمل کر کے عدالت میں چالان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مذید خبریں
آزاد کشمیر میں جھڑپیں،صورتحال کشیدہ ،چار اہلکار شہید – urdureport.com
آزاد کشمیر :پیرا ملٹری فورس تعینات، 72 افراد حراست میں، انٹرنیٹ سروسز معطل – urdureport.com
گرفتاریوں پر کروڑوں کے انعامات
دوسری جانب حکومت نے تنظیم کے چند اہم رہنماؤں کی گرفتاری یا ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مطلوب افراد کی موجودگی سے متعلق معلومات دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
کوٹلی میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب لانگ مارچ کے شرکاء اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے ہلاکتوں کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
راولا کوٹ احتجاج
راولاکوٹ کے قریب بھی ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے جہاں سکیورٹی فورسز نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مختلف علاقوں سے آنے والے قافلوں کی نقل و حرکت پر کڑی نگرانی رکھی گئی جبکہ اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔
دارالحکومت مظفرآباد میں اگرچہ حالات نسبتاً پُرامن رہے، تاہم شہر بھر میں کاروبار اور عوامی سرگرمیاں محدود نظر آئیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ موجودہ ہڑتال کسی دباؤ کے بغیر عوامی حمایت کے باعث کامیاب ہوئی ہے، تاہم مسلسل بندش سے روزانہ کروڑوں روپے کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ سیاسی اور عوامی حلقے موجودہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

