مظفرآباد: آزاد کشمیر میں حکومت اور کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی، جبکہ مختلف علاقوں سے آنے والے مظاہرین کے قافلے راولاکوٹ کے نواحی علاقے ڈھریک عیدگاہ تک پہنچ گئے۔
ہڑتال کے باعث مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، میرپور اور کوٹلی سمیت بیشتر شہروں میں کاروباری مراکز، بینک، پیٹرول پمپس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی۔ سڑکوں پر معمول کی سرگرمیاں تقریباً معطل رہیں جبکہ سرکاری دفاتر کھلے ہونے کے باوجود حاضری انتہائی کم دیکھی گئی۔
شرکا کہاں موجود؟
انتظامیہ کے مطابق میرپور سے شروع ہونے والا لانگ مارچ مختلف مقامات سے گزرتا ہوا راولاکوٹ کے قریب پہنچ چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی تعداد 10 سے 12 ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ مزید قافلے بھی راستے میں ان کے ساتھ شامل ہوتے رہے۔ ضلع میرپور سے چلنے والا مظاہرین کا بڑا قافلہ اس وقت راولا کوٹ سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ڈھریک عید گاہ کے مقام پر موجود ہیں۔
سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر راولاکوٹ اور دیگر حساس علاقوں میں رینجرز، ایف سی اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ شہر بھر میں گشت بڑھا دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
راولا کوٹ مساجد سے اعلانات
ادھر راولاکوٹ کی متعدد مساجد سے بھی احتیاطی اعلانات کیے گئے، تاہم ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ باضابطہ کرفیو نافذ نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود شہر میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات اور نقل و حرکت پر سخت نگرانی جاری ہے۔
مذید خبریں
آزاد کشمیر احتجاج جاری : کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ – urdureport.com
اگر طالبان سے بات ہو سکتی ہے تو جوائنت ایکشن کمیٹی سے کیوں نہیں،وزیراعظم آزاد کشمیر – urdureport.com
12 نشستوں کا معاملہ
حالیہ کشیدگی کا پس منظر کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کا معاملہ ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے احتجاجی تحریک جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کا خاتمہ صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ممکن ہے، جس کے لیے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا حل مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
کوٹلی میں جھڑپیں
گزشتہ رات کوٹلی میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ادھر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کے خلاف بغاوت کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس نے مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپوں کا سلسلہ بھی تیز کر دیا ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق چند مطلوب رہنماؤں کی گرفتاری یا ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے تک انعام کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صورتحال بدستور حساس ہے اور اگر فریقین کے درمیان مذاکرات نہ ہوئے تو احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔


