امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ تین غیر معمولی شکل و صورت رکھنے والے تین پر اسرار افراد کے ساتھ گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تصویر سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ پر مختلف قیاس آرائیاں اور تبصرے شروع ہو گئے ہیں۔
وائرل تصویر میں ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump کے ساتھ موجود تینوں افراد غیر معمولی طور پر لمبے قد کے حامل ہیں، ان کے سنہری بال نمایاں ہیں جبکہ وہ سرخ رنگ کی وردی پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی منفرد شکل و صورت نے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
تصویر کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد نظریات سامنے آئے۔ بعض صارفین نے اسے محض تفریح قرار دیا جبکہ کچھ نے ان شخصیات کو غیر زمینی مخلوق یا مشہور سازشی نظریات میں بیان کی جانے والی پراسرار مخلوقات سے جوڑنے کی کوشش کی۔
پر اسرار شخصیات کا تعلق
چند صارفین نے دعویٰ کیا کہ تصویر میں دکھائی دینے والے افراد مبینہ طور پر "نارڈک” طرز کی انسان نما مخلوق سے مشابہت رکھتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک اور تصویر بھی گردش کرنے لگی جس میں یہی افراد مبینہ طور پر چینی صدر Xi Jinping کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، جس کے بعد اس موضوع پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی۔
دوسری جانب کئی صارفین نے اس معاملے کو مزاحیہ انداز میں لیا اور ان شخصیات کا موازنہ معروف فینٹسی سیریز اور فلموں کے کرداروں سے کیا۔ مختلف میمز اور طنزیہ تبصروں نے بھی سوشل میڈیا پر خوب توجہ حاصل کی۔
مذید خبریں
ٹرمپ کا آج اتوار معاہدے کا دعویٰ :سپریم لیڈر کے خون کا کیا بنا ،ایران میں احتجاج – urdureport.com
چکوال : سی سی ڈی فائرنگ سے نو سالہ معصوم ہانیہ جاں بحق،آسٹریلیوی حکام کو نوٹس – urdureport.com
تاحال White House کی جانب سے اس تصویر کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت یا تصدیق جاری نہیں کی گئی۔ بعض ماہرین اور صارفین کا خیال ہے کہ یہ تصویر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہو سکتی ہے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقت سے قریب تر فرضی تصاویر بنانا اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
ناروے شاہی محل دستے
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے متبادل وضاحت پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تصویر میں موجود افراد دراصل ناروے کے شاہی محافظ دستے کے ارکان ہو سکتے ہیں اور یہ تصویر 2018 میں ناروے کے شاہی وفد کے وائٹ ہاؤس دورے کے دوران لی گئی تھی، تاہم اس دعوے کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔


