امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی دستاویز پر الیکٹرانک دستخط کر دئیے ہیں جبکہ اس ہفتے کے آخر میں جنیوا میں دستخط کی ایک باقاعدہ تقریب منعقد ہوگی۔
امریکی صدر Donald Trump نے جی سیون اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور اس کے اہم مراحل کامیابی سے طے کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کی تفصیلات جلد عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر ’سب دستخط ہو چکے ہیں، مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ اعلیٰ انتظامی حکام نے کہا کہ اس مفاہمت نامے پر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس، اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جامع امن معاہدے کی تیاری کے لیے باقاعدہ مذاکراتی عمل شروع ہوگا۔
ایرانی صدر کا بیان
دوسری جانب ایرانی صدر Masoud Pezeshkian نے معاہدے کو ایران کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہوا تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے معاہدے کے حق میں ملکی قیادت کی حمایت کا بھی ذکر کیا۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئندہ 60 روز کے دوران دونوں فریق جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، اقتصادی معاملات اور دیگر اہم تنازعات پر تفصیلی مذاکرات کریں گے تاکہ مستقل اور جامع سمجھوتے تک پہنچا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کی وضاحت
Donald Trump نے واضح کیا کہ موجودہ مفاہمت میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں فوری نرمی شامل نہیں ہے۔ ان کے بقول مستقبل میں پیش رفت کا انحصار ایران کے طرزِ عمل اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی پر ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر تعلقات میں بہتری کا عمل برقرار نہ رہا تو خطے میں کشیدگی دوبارہ جنم لے سکتی ہے، تاہم انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک تنازعات کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کریں گے۔
مزید خبریں
امریکہ ایران امن معاہدہ طے، باضابطہ دستخط 19 جون کو سوٹزرلینڈ میں ہوں گے – urdureport.com
ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط چند گھنٹوں میں متوقع ہیں ،ٹرمپ – urdureport.com
ادھر امریکی نائب صدرجے ڈی وینس JD Vance نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے مزید تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ مذاکرات کامیاب رہے تو یہ معاہدہ نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور عالمی توانائی منڈیوں کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔


