امریکہ اور ایران نے اسلام اباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امن معاہدے پر دستک دیے جس کے بعد امن معاہدہ نافذ العمل ہو چکا ہے جبکہ پاکستانی وزیراعظم نے بطور ثالث اس معاہدے کی توثیق کی ہے۔

"پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ”مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی اور اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ آج امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (Islamabad Memorandum of Understanding) پر الیکٹرانک طور پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 18, 2026
اس یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کیے ہیں جبکہ میں نے بطور ثالث اس کی توثیق کی ہے۔ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر اس معاہدے پر دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں فریق تنازع کے سفارتی حل کے لیے پُرعزم ہیں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ پہلے مرحلے میں اسلامی جمہوریہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکہ فوری طور پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔
میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو دلی مبارکباد اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی سفارت کاری سے وابستگی اور مسائل کے پُرامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی نے ایک بار پھر ایسے تنازع کا خاتمہ ممکن بنایا جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔
میں امریکی مذاکراتی ٹیم، بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی انتھک محنت اور قیمتی خدمات کو بھی سراہتا ہوں۔
میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو بھی ان کی دانشمندی، دور اندیشی اور امن کے لیے مثبت کردار پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
اسی طرح ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی صبر آزما کوششوں، ثابت قدمی اور تعمیری مذاکراتی کردار کو بھی سراہتا ہوں، جنہوں نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
میں ریاست قطر کی قیادت کی مخلصانہ کوششوں اور تعمیری تعاون کو خصوصی طور پر تسلیم کرتا ہوں، جنہوں نے اس اہم پیش رفت میں مدد فراہم کی۔
مزید برآں، مملکت سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور عرب جمہوریہ مصر کی قیادت کی ناگزیر معاونت اور قیمتی کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
میں بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کاوشوں، بے لوث خدمات اور اہم کردار کا اعتراف کرتا ہوں، جن کی کوششیں اس سفارتی کامیابی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئیں۔
دعا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر باہمی روابط، احترام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد ثابت ہو۔”


