خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی پولیس نے باڑہ کے علاقے میں ایک گھر سے فرانسیسی خاتون اور ان کے پانچ بچوں کو بازیاب کر لیا ہے، جبکہ خاتون کی شکایت پر شوہر کے خلاف تشدد، دھمکیاں دینے اور غیر قانونی حبس میں رکھنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) خیبر وقار احمد کے مطابق 54 سالہ فرانسیسی خاتون سلویا یاسمینا کو کئی برسوں سے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ پولیس کو اس وقت اطلاع ملی جب خاتون کے ایک بیٹے نے موقع پا کر گھر سے نکل کر حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران خاتون اور ان کے بچوں کو باڑہ کے ایک خستہ حال کمرے سے بازیاب کرایا گیا، جہاں وہ انتہائی نامساعد حالات میں رہ رہے تھے۔ بعد ازاں انہیں پشاور کے ویمن کرائسز سینٹر منتقل کر دیا گیا۔
ایف آئی آر کا اندران
خاتون کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق وہ 2014 سے ضلع خیبر میں مقیم تھیں اور اس دوران انہیں مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ شوہر نے نہ صرف انہیں بلکہ بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں بیرونی دنیا سے تقریباً مکمل طور پر الگ تھلگ رکھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات اور گھریلو تشدد کے خلاف قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے۔ خاتون کے مطابق ان کے جسم اور چہرے پر تشدد کے نشانات موجود ہیں اور وہ خود کو اور اپنے بچوں کو غیر محفوظ محسوس کرتی تھیں۔
شادی کیسے ہوئی ؟
ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون کی شادی 2003 میں آسٹریلیا میں ایک پاکستانی شہری سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد ان کے دو بچے آسٹریلیا میں پیدا ہوئے جبکہ بعد میں خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ خاتون کا مؤقف ہے کہ پاکستان آنے کے بعد ان کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔
مذید خبریں
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا – urdureport.com
حج 2027: رجسٹریشن کا آغاز آج سے، عازمین کے لیے اندراج لازمی قرار – urdureport.com
پولیس حکام کے مطابق خاتون اور ان کے تمام بچوں کے پاس فرانسیسی شہریت اور پاسپورٹ موجود ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ذریعے فرانسیسی سفارتخانے کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او وقار احمد کا کہنا ہے کہ خاتون نے فرانس واپس جانے کی خواہش ظاہر کی ہے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے بچوں سمیت وطن واپس جا سکتی ہیں۔
پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ گرفتار ملزم سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔


