معروف اداکارہ عائشہ عمر نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ان کی نجی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر انٹرنیٹ پر وائرل کی گئیں، جس کے بعد انہیں نہ صرف ذاتی زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ان کے کیریئر اور ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔
غیر ملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ عمر نے اس واقعے کو اپنے لیے ایک انتہائی مشکل دور قرار دیا اور کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور متعلقہ ادارے خواتین کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ گفتگو خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ کا حصہ ہے، جس میں مختلف ممالک کی متاثرہ خواتین کے تجربات شامل کیے گئے ہیں۔
واقعہ کب پیش آیا
اداکارہ نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ دوستوں کے ساتھ تھائی لینڈ میں چھٹیاں گزار رہی تھیں، اور ان کے لیپ ٹاپ سے کچھ تصاویر مبینہ طور پر چوری کرکے آن لائن شیئر کر دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تصاویر عام نوعیت کی تھیں اور ان میں کوئی غیر اخلاقی مواد موجود نہیں تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں سخت ردعمل اور پیشہ ورانہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
عائشہ عمر کے مطابق اس واقعے کے بعد کئی برانڈز نے ان کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے، کیونکہ معاشرے میں خواتین کے حوالے سے مخصوص توقعات اور روایتی سوچ پائی جاتی ہے۔
ذہنی دباو کا شار
اس صورتحال نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا، جس کے باعث وہ خوف اور بے چینی کا شکار رہیں۔ رپورٹ میں خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی اور تصاویر کے غلط استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ مسئلہ صرف نجی تصاویر نہیں بلکہ رضامندی اور ڈیجیٹل تحفظ کا ہے۔
مذید خبریں
سارہ خان اور علیزے شاہ کے درمیان چھوٹے کپڑے پہننے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا – urdureport.com
مامیا شاہ جعفر ہراسانی کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آگئی – urdureport.com
رپورٹ میں دیگر متاثرہ خواتین کے تجربات بھی شامل ہیں، جن کے مطابق ذاتی تصاویر کو بغیر اجازت شیئر کرکے ان کی ساکھ، ازدواجی زندگی اور سماجی تعلقات کو نقصان پہنچایا گیا۔
ماہرین کے مطابق جدید دور میں تصاویر اور ڈیجیٹل مواد کے غلط استعمال نے خواتین کے لیے ایک سنگین چیلنج پیدا کر دیا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر قوانین اور ڈیجیٹل تحفظ کے اقدامات کی ضرورت ہے۔


