کراچی کے علاقے قائد آباد میں تین سالہ بچی کے اغوا، مبینہ جنسی زیادتی اور قتل کے افسوسناک واقعے نے شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات تیز کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جبکہ مقدمہ اغوا، جنسی تشدد اور قتل کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔
بچی کے والد کے مطابق ان کی بیٹی 23 جون کی شام گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوگئی تھی۔ اطلاع ملنے پر وہ فوری گھر پہنچے اور اہلِ خانہ و محلے کے افراد کے ساتھ کئی گھنٹوں تک بچی کی تلاش کرتے رہے۔ مقامی مساجد میں اعلانات بھی کروائے گئے اور محلے میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے بچی کی گمشدگی کی اطلاع دی گئی، تاہم اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
والد کے مطابق رات کو گھر واپس پہنچنے پر محلے کے افراد نے اطلاع دی کہ نامعلوم شخص بچی کی لاش ایک آٹے کی بوری میں ڈال کر گلی میں چھوڑ گیا تھا، جسے مقامی افراد فوری طور پر اسپتال منتقل کر چکے تھے۔
ابتدائی رپورٹ میں انکشاف
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیرولوجی اور ڈی این اے تجزیے کے لیے تمام ضروری نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں، جبکہ موت کی حتمی وجہ کا تعین کیمیائی تجزیے کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
سندھ پولیس نے ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ ایس ایس پی انویسٹیگیشن ملیر ماجدہ پروین کے مطابق پولیس نے اہم شواہد اکٹھے کیے ہیں اور متعدد مشتبہ افراد سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں، تاہم تاحال کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔
تحقیقات میں تیزی
تحقیقات کے دوران علاقے کے رہائشیوں، دکانداروں اور دیگر افراد کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف مقامات کی تلاشی بھی لی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فارنزک اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
مذید خبریں
سرگودھا آٹھ سالہ بچی زیادتی و قتل ! اصل واقعہ کیسے ہوا – urdureport.com
سپریم کورٹ: مقررہ مدت میں عدم ادائیگی والا جائیداد کا دعویٰ نہیں کر سکتا – urdureport.com
دوسری جانب سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو جدید سائنسی بنیادوں پر شفاف اور جلد تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں کمسن بچوں کے خلاف جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔


