لاہور میں ہالینڈ اور اسپین سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تاوان طلبی اور جنسی زیادت کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ خاتون نے بیان دیا کہ ان کی ملاقات سنگاپور (Singapore) میں منعقدہ ایک کرپٹو کرنسی (Cryptocurrency) ایونٹ کے دوران لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے ہوئی، جس نے خود کو پاکستان کی بااثر سیاسی شخصیات سے قریبی تعلق رکھنے والا ظاہر کیا۔ اسی اعتماد کی بنیاد پر دونوں خواتین پاکستان آئیں۔
غیر ملکی خواتین کا بیان
غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے میں متاثرہ خواتین کے عدالتی بیان (دفعہ 164) کے بعد کیس میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جنہوں نے واقعے کے مختلف پہلوؤں پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عدالتی بیان کے مطابق متاثرہ خواتین نے بتایا کہ مرکزی ملزم رضا ڈار (Raza Dar) انہیں یہ کہہ کر گھر سے لے کر نکلا کہ وہ انہیں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ (Allama Iqbal International Airport) چھوڑنے جا رہا ہے۔
خواتین میں سے ایک، اسٹیفنی (Stephanie) نے اپنے موبائل فون پر ایئرپورٹ کی لوکیشن چیک کی تو انہیں معلوم ہوا کہ گاڑی ایئرپورٹ کے بجائے کسی اور سمت جا رہی ہے، جس پر انہیں صورتحال پر شبہ ہوا۔
باس سے رابطے
متاثرہ خاتون گیبرئیل (Gabrielle) نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس دوران رضا ڈار مسلسل فون پر کسی ایسے شخص سے رابطے میں تھا، جسے وہ "باس” کہہ رہا تھا۔ خاتون کے مطابق فون پر دوسری جانب سے ہدایات دی جا رہی تھیں کہ "باس کی ہدایات کچھ اور ہیں۔”
بیان کے مطابق دونوں خواتین خوفزدہ تھیں اور مسلسل مطالبہ کر رہی تھیں کہ انہیں جلد از جلد ایئرپورٹ پہنچایا جائے، تاہم گاڑی آہستہ رفتاری سے چل رہی تھی۔ اسی دوران گاڑی ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے بعد دونوں خواتین نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گاڑی سے چھلانگ لگا دی۔
متاثرہ خواتین کے مطابق وہ قریبی ایک مکینک کی دکان میں پہنچیں، جہاں موجود افراد نے ٹریفک پولیس (Traffic Police) کو اطلاع دی۔ بعد ازاں ایک پولیس اہلکار انہیں اپنی گاڑی میں لے گیا اور بتایا کہ انہیں ایئرپورٹ پہنچایا جائے گا۔
خواتین نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ راستے میں انہیں دوبارہ شک ہوا کہ گاڑی ایئرپورٹ کی جانب نہیں جا رہی۔ اسی دوران انہیں بتایا گیا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے اور انہیں دوسری گاڑی میں منتقل ہونا ہوگا، تاہم دونوں خواتین وہاں سے بھی نکل گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزم ’باس‘ سمیت چار افراد کو رات گئے حراست میں لیا گیا ہے مگر اس بارئے ایک تشویش پائی جاتی ہے کہ ان کا باس کون ہے ؟جبکہ میڈیکل رپورٹ میں ایک خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ گرفتار ملزمان میں سے تین افراد نے خاتون کا ریپ کیا ہے۔
پولیس وین کا ریسکیو
اسٹیفنی کے مطابق بعد میں ایک دوسری پولیس موبائل موقع پر پہنچی، جس میں ایک خاتون پولیس اہلکار بھی موجود تھیں۔ خاتون اہلکار نے انہیں بتایا کہ پولیس اس واقعے سے آگاہ ہے اور ضروری شواہد دکھانے کے بعد دونوں خواتین کو تھانے منتقل کیا گیا، جہاں اگلے روز ان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
دوسری جانب پولیس کا مؤقف ہے کہ اطلاع ملنے کے بعد جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں اور گاڑی کی ٹریسنگ کی مدد سے دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا اور اس سلسلے میں متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
مذید خبریں
لاہور: دو غیر ملکی خواتین کا اغوا اور زیادتی،ملزم ڈپٹی وزیر اعظم کا مبینہ رشتہ دار – urdureport.com
لاہور غیر ملکی خواتین کا اغوا اور زیادتی مگر اسحق ڈار سے استعفیٰ کا مطالبہ کیوں ؟ – urdureport.com
کیس کی مزید سماعت اور تحقیقات کے دوران عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد، فرانزک رپورٹس اور دیگر قانونی کارروائی کے بعد ہی واقعے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔
جسمانی ریمانڈ
کینٹ کچہری (Cantt Court) نے گرفتار چار ملزمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، جبکہ تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود (Judicial Magistrate Azhar Mehmood) نے پولیس کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ پولیس نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے پانچ روز کی اجازت دی۔
یہ مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی (Defence C Police Station) میں درج ہے، جہاں پولیس نے 2 جولائی کو کارروائی کرتے ہوئے دونوں غیر ملکی خواتین کو بازیاب کرایا اور چار ملزمان کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق دیگر مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایف آئی آر میں ریپ اور تاوان طلبی کے الزامات
مقدمہ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی، ان کے ویزوں کا انتظام کیا گیا اور 29 جون کو انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے انہیں یرغمال بنا کر ان کے اہل خانہ سے 15 لاکھ امریکی ڈالر (1.5 Million US Dollars) تاوان طلب کیا۔ مزید یہ کہ ایک خاتون کو متعدد مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسری خاتون کے ساتھ بھی مبینہ طور پر ریپ کی کوشش کی گئی۔
پولیس نے خواتین کو کیسے بازیاب کرایا؟
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران (DIG Operations Lahore Faisal Kamran) کے مطابق پولیس کو اسپین سے متاثرہ خاتون کے والد کی کال موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی کو اغوا کر لیا گیا ہے اور رہائی کے لیے 15 لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے اپنے والد کو گاڑی کا نمبر بھی فراہم کیا تھا، جس کی مدد سے پولیس نے فوری طور پر گاڑی کا ریکارڈ حاصل کیا اور سیف سٹی (Safe City) کیمروں سمیت دیگر ذرائع سے اس کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔
پولیس کے مطابق گاڑی کی ٹریسنگ کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان خواتین کو لاہور (Lahore)، (Islamabad)، مری (Murree) اور دیگر مقامات پر لے گئے، جس کے بعد ڈیفنس (Defence) کے علاقے میں چھاپہ مار کر دونوں خواتین کو بازیاب کرایا گیا اور چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
کرپٹو سرمایہ کاری کا تنازع بھی تفتیش کا حصہ
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں خواتین اور مرکزی ملزم کے درمیان سنگاپور میں کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کا کاروباری تعلق قائم ہوا تھا۔
ان کے مطابق سرمایہ کاری کے منافع کی تقسیم پر اختلاف پیدا ہونے کے بعد معاملہ شدت اختیار کر گیا، تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ اگر مالی تنازع موجود بھی تھا تو کسی شخص کو اغوا کرنا، یرغمال بنانا یا تاوان طلب کرنا قانوناً جرم ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں، جن میں مبینہ اغوا، تاوان طلبی، جنسی زیادتی، مالی تنازع اور دیگر ممکنہ جرائم شامل ہیں، کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔


