پاکستان کی نئی نجی ایئر لائن ساؤتھ ایئر (South Air) نے اندرونِ ملک باقاعدہ فضائی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ افتتاحی مرحلے میں کراچی سے دو پروازیں روانہ کی گئیں، جن میں ایک پرواز تربت کے راستے کوئٹہ جبکہ دوسری بہاولپور سے ہوتی ہوئی اسلام آباد پہنچی۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (Pakistan Airports Authority – PAA) کے مطابق نئی ایئر لائن کے آغاز سے ملک کے مختلف شہروں کے درمیان فضائی رابطوں میں مزید بہتری آئے گی، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں فضائی سہولتیں محدود ہیں۔
اے ٹی آر طیارے کیسے ہوتے ہیں ؟
اے ٹی آر (ATR) ایک جدید دو انجنوں والا ٹربوپراپ (Turboprop) مسافر طیارہ ہے، جسے فرانس اور اٹلی کی مشترکہ کمپنی ATR تیار کرتی ہے۔ یہ طیارہ مختصر فاصلے (Short-Haul Routes) اور چھوٹے رن وے والے ایئرپورٹس پر پروازوں کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ATR 42 میں عموماً 40 سے 50 جبکہ ATR 72 میں تقریباً 68 سے 78 مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے۔ کم ایندھن خرچ کرنے، کم آپریٹنگ لاگت اور دور دراز علاقوں تک آسان رسائی کی وجہ سے دنیا بھر کی کئی علاقائی ایئر لائنز اندرونِ ملک اور مختصر فاصلے کی پروازوں کے لیے ان طیاروں کا استعمال کرتی ہیں۔
پاکستان میں اے ٹی آر طیاروں کی تباہی
پاکستان میں ماضی میں ہونے والے فضائی حادثات میں اے ٹی آر (ATR) طیارہ بھی شامل رہا ہے۔ سب سے بڑا حادثہ 7 دسمبر 2016 کو پیش آیا، جب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی پرواز PK-661 کا ATR 42-500 طیارہ چترال سے اسلام آباد جاتے ہوئے حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں سوار تمام 47 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ 2009 میں بھی پی آئی اے کا ایک ATR طیارہ لاہور ایئرپورٹ پر رن وے سے پھسل گیا تھا، تاہم اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
ابتدائی مرحلے میں کن روٹس پر پروازیں چلیں گی؟
ساؤتھ ایئر ابتدائی طور پر کراچی، تربت، کوئٹہ، بہاولپور اور اسلام آباد کے درمیان پروازیں آپریٹ کرے گی۔ کمپنی کے مطابق آئندہ مرحلے میں پشاور، سکھر، رحیم یار خان، گوادر، پنجگور، چترال، سکردو، گلگت، فیصل آباد، ڈی جی خان اور نواب شاہ کو بھی اپنے نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔
دو اے ٹی آر طیاروں سے آپریشن کا آغاز
ساؤتھ ایئر نے اپنے فلائٹ آپریشن کا آغاز دو اے ٹی آر (ATR) طیاروں سے کیا ہے۔ یہ نسبتاً چھوٹے طیارے ہیں جو مختصر رن ویز پر بھی آسانی سے لینڈ اور ٹیک آف کر سکتے ہیں، اسی وجہ سے انہیں چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
ساؤتھ ایئر کی ملکیت کس کے پاس ہے؟
ایئر لائن ایس او ایس (Security Organizing System – SOS) گروپ کی ملکیت ہے، جو پہلے سکیورٹی خدمات فراہم کرتا تھا، تاہم بعد ازاں اس نے ٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، توانائی اور دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کی۔
کمپنی کے حکام کے مطابق گروپ کی بنیاد جنوبی پنجاب میں رکھی گئی تھی، اسی نسبت سے نئی ایئر لائن کا نام ساؤتھ ایئر رکھا گیا۔
پاکستان کی پہلی خاتون ایئر لائن چیف ایگزیکٹو
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نشاط فاطمہ (Nishat Fatima) پاکستان میں کسی بھی ایئر لائن کی پہلی خاتون چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہیں، جو اس منصوبے کی قیادت کر رہی ہیں۔
ساؤتھ ایئر دیگر ایئر لائنز سے کیسے مختلف ہے؟
کمپنی کے مطابق ساؤتھ ایئر روایتی کمرشل ایئر لائن کے بجائے ٹورازم پروموشن اینڈ ریجنل انٹیگریشن (Tourism Promotion and Regional Integration – TPRI) لائسنس کے تحت کام کر رہی ہے۔
اس لائسنس کے تحت حکومت کی جانب سے لینڈنگ چارجز اور بعض دیگر فیسوں میں رعایت دی جاتی ہے تاکہ علاقائی فضائی رابطوں کو فروغ دیا جا سکے۔
چھوٹے شہروں پر خصوصی توجہ
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد ایسے شہروں کو فضائی نیٹ ورک سے جوڑنا ہے جہاں بڑی ایئر لائنز کم یا بالکل پروازیں نہیں چلاتیں۔ ان روٹس کو سوشو اکنامک روٹس (Socio-Economic Routes) قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ ان سے مقامی معیشت، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔
پاکستان میں نئی ایئر لائن کی ضرورت کیوں؟
ساؤتھ ایئر کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی والے پاکستان میں فضائی سفر کرنے والوں کی تعداد اب بھی بہت کم ہے، جبکہ اندرون ملک پروازوں کے لیے دستیاب طیاروں کی مجموعی تعداد بھی محدود ہے۔
کمپنی کے مطابق فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر نئی ایئر لائنز کے لیے کافی گنجائش موجود ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کی نئی نجی ایئرلائن ساؤتھ ایئر (South Air) نے اپنے فضائی آپریشن کا آغاز نئے نہیں بلکہ استعمال شدہ (Pre-owned) ATR 72-500 طیاروں سے کیا ہے۔ کمپنی کے موجودہ طیارے پہلے دیگر ایئر لائنز بھی استعمال کر چکی ہیں اور ان کی اوسط عمر تقریباً 17 سال بتائی جاتی ہے۔ تاہم ہوابازی کی صنعت میں استعمال شدہ طیاروں کا آپریشن معمول کی بات ہے، بشرطیکہ وہ سول ایوی ایشن کے مقررہ حفاظتی معیارات پر پورا اتریں اور ان کی باقاعدہ دیکھ بھال اور معائنہ کیا جاتا رہے۔
ماہرین کی مختلف آراء
ہوابازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو خاص طور پر 19 سے 70 نشستوں والے طیاروں کی ضرورت ہے، کیونکہ ملک کے کئی ایئرپورٹس ایسے ہیں جہاں باقاعدہ فضائی سروس موجود نہیں۔ ان کے مطابق چھوٹے جہاز نہ صرف دور دراز علاقوں کو بہتر انداز میں جوڑ سکتے ہیں بلکہ سفر کے اخراجات بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
مذید خبریں
کے ٹو ائیر ویز کارگو بلیک باکس تلاش :عملے کی زندگی شاید کوئی معجزہ ہو جائے – urdureport.com
سعودی عرب ٹورسٹ پیکیج ویزا متعارف، پاکستانیوں کے لیے 48 گھنٹوں میں – urdureport.com
ان کا کہنا ہے کہ فضائی صنعت کی ترقی براہِ راست ملک کی معاشی حالت اور عوام کی قوتِ خرید سے وابستہ ہوتی ہے، جبکہ اس وقت فضائی سفر زیادہ تر اعلیٰ آمدنی والے طبقے تک محدود ہے۔
سرمایہ کاری کے باوجود چیلنجز برقرار
ماہرین کے مطابق پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، تاہم پرانے طیاروں کی درآمد سے متعلق قواعد، آپریشنل اخراجات اور محدود مسافر تعداد جیسے عوامل اب بھی اس شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔
ساؤتھ ایئر کا مؤقف ہے کہ اگرچہ علاقائی روٹس پر آپریشن ایک چیلنج ضرور ہے، تاہم یہی روٹس مستقبل میں نئی کاروباری اور سفری سرگرمیوں کے لیے اہم مواقع بھی فراہم کر سکتے ہیں۔


