کراچی: شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کمپنی کے ٹو کا بوئنگ 737 کارگو طیارہ (Boeing 737 Cargo Plane) بحیرۂ عرب (Arabian Sea) کے قریب لاپتہ ہونے کے دو روز بعد بھی اس میں سوار پانچ کریو ممبرز (Crew Members) کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔متعلقہ حکام کی جانب سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن (Search and Rescue Operation) بدستور جاری ہے۔
حکام کے مطابق حادثے کے تقریباً 12 گھنٹے بعد طیارے کا ملبہ (Wreckage) تلاش کر لیا گیا تھا، تاہم عملے کے ارکان کی تلاش تاحال جاری ہے۔ اس دوران لاپتہ افراد کے اہل خانہ شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں اور کسی مثبت خبر کے منتظر ہیں اور اب بھی اس امید پر ہیں کہ شاید کسی کے زندہ بچ جانے کی خبر آئے کوئی معجزہ وہ جائے۔
حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں پائلٹ اِن کمانڈ (Pilot in Command) محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر (First Officer) فیصل محمود، لوڈ ماسٹر (Load Master) محمد توفیق خان، جبکہ ایئرکرافٹ انجینیئرز (Aircraft Engineers) محمد عارف صدیقی اور محمد حامد سوار تھے۔
بلیک باکس کی تلاش
شارجہ سے کراچی آنے والے K2 Airways کے Boeing 737 Cargo Plane حادثے کی تحقیقات میں نئے پہلو سامنے آئے ہیں، جبکہ بحیرۂ عرب (Arabian Sea) میں طیارے کے بلیک باکس (Black Box) اور لاپتہ کریو ممبرز (Crew Members) کی تلاش بدستور جاری ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرچ ٹیمیں جلد بلیک باکس (Black Box) برآمد کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو حادثے کی وجوہات کے بارے میں واضح تصویر سامنے آ سکتی ہے۔ اس وقت تحقیقاتی ٹیم شواہد اکٹھے کرنے اور حادثے کے ہر پہلو کا جائزہ لینے میں مصروف ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (Pakistan Airports Authority – PAA) کے مطابق سرچ آپریشن میں پاکستان نیوی (Pakistan Navy) اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (Pakistan Maritime Security Agency) حصہ لے رہی ہیں، جبکہ فضائی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سمندر سے طیارے کے مزید ملبے (Wreckage) کے حصے ملے ہیں، جنہیں تحقیقاتی عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے سے قبل طیارے نے نیویگیشن سسٹم (Navigation System) میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔ کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول (Air Traffic Control) نے عملے کی رہنمائی کی، تاہم چند منٹ بعد طیارہ ریڈار پر غیر معمولی انداز میں نیچے آتا دکھائی دیا اور کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق پرزہ تبدیل کرنے کے بعد طیارے کا مکمل ٹیکنیکل انسپیکشن (Technical Inspection) کیا گیا اور تمام ضروری جانچ مکمل ہونے پر اسے دوبارہ پرواز کی اجازت دی گئی۔
اہلخانہ کا موقف
لاپتہ ہونے والوں میں ایئرکرافٹ انجینیئر (Aircraft Engineer) محمد عارف صدیقی بھی شامل ہیں۔ ان کے صاحبزادے حذیفہ صدیقی نے بتایا کہ ان کے والد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (Pakistan International Airlines – PIA) میں ڈپٹی چیف انجینیئر (Deputy Chief Engineer) کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نجی ایوی ایشن کمپنی (Private Aviation Company) کے ساتھ خدمات انجام دے رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ شارجہ سے روانگی سے قبل والد نے معمول کے مطابق گھر فون کر کے کراچی واپسی کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد میں طیارے کے حادثے کا علم میڈیا رپورٹس سے ہوا، متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطہ ہے تاہم کوئی ان بارئے اطلاع نہیں ملی۔
مذید خبریں
پنجاب حکومت کا دس ارب کا لگژری طیارہ نئے سوالات کو جنم دینے گیا – urdureport.com
دوسری جانب طیارے کے کپتان (Captain) رضوان ادریس کے اہل خانہ بھی مسلسل دعاؤں میں مصروف ہیں۔ سابق فائٹر پائلٹ (Fighter Pilot) رہنے والے رضوان ادریس بعد ازاں کمرشل ایوی ایشن (Commercial Aviation) سے وابستہ ہو گئے تھے اور انہیں ایک تجربہ کار پائلٹ تصور کیا جاتا تھا۔ان کے صاحبزادے شہیر رضوان کے مطابق والد سے آخری گفتگو منگل کی شام ہوئی تھی، خاندان کو اب بھی امید ہے کہ سرچ آپریشن (Search Operation) کے دوران کوئی خوشخبری ملے گی۔
حادثے میں لاپتہ ہونے والے دیگر کریو ممبرز (Crew Members) میں فرسٹ آفیسر (First Officer) فیصل محمود جتوئی، ایئرکرافٹ انجینیئر (Aircraft Engineer) محمد حامد خان اور لوڈ ماسٹر (Load Master) محمد توفیق خان شامل ہیں۔ تمام عملے کا تعلق کراچی سے بتایا جاتا ہے۔


