اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کی غیرقانونی تعمیرات، بالخصوص نسلہ ٹاور Nasla Tower اور زمینوں کا اسٹیٹس تبدیل کرنے پر عائد پابندی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابقہ مسماری احکامات واپس لے لیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ بلڈنگ قوانین کا نفاذ اور غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ آئینی تقاضے پورے کیے بغیراپیل میں سوموٹو اختیار استعمال کیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت Federal constitutional courtنے ساتھ یہ واضح کیا گیا ہے کہ آئینی عدالت کسی غیرقانونی تعمیر کو جائز قرار نہیں دے رہی۔سپریم کورٹ کے سامنے لیاری کی ایک غیرقانونی تعمیرشدہ عمارت کی اپیل زیر سماعت تھی، لیکن ایک بلڈنگ کا کیس پہلے پورے لیاری اور پھر کراچی شہر تک پھیلا دیا گیا۔

Nasla Tower Karachi
10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ Supreme court of Pakistan کے سامنے بنیادی طور پر لیاری میں واقع ایک عمارت سے متعلق اپیل زیر سماعت تھی، تاہم بعد ازاں مقدمے کا دائرہ پورے لیاری اور پھر کراچی کی دیگر تعمیرات تک وسیع کر دیا گیا۔
سپریم کورٹ کے اختیارات سے تجاوز قرار
فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے نسلہ ٹاور کیس Supreme court of Pakistan Nasla Tower caseاس مقدمے کے دوران کراچی ماسٹر پلان کے خلاف تعمیر ہونے والی عمارتوں، شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز اور دیگر تجارتی عمارتوں کے خلاف بھی احکامات جاری کیے، جو مقدمے کے اصل دائرہ کار سے باہر تھے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ اس نوعیت کے احکامات عدالتی اختیارات کی حدود سے تجاوز کے مترادف تھے، اس لیے مقدمے میں جاری کیے گئے تمام سابقہ احکامات واپس لیے جاتے ہیں اور کیس نمٹا دیا گیا ہے۔

غیرقانونی تعمیرات کو قانونی قرار نہیں دیا گیا
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ان احکامات کی واپسی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غیرقانونی تعمیرات کو قانونی حیثیت دی جا رہی ہے۔
فیصلے کے مطابق غیرقانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی کے لیے ملکی قوانین موجود ہیں، جن پر عملدرآمد سندھ حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی ذمہ داری ہے۔
صرف رپورٹ پر مسماری نہیں
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ کسی بھی عمارت کو صرف متعلقہ ادارے کی رپورٹ کی بنیاد پر گرانے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ ہر شہری کو آئین کے مطابق مکمل قانونی کارروائی، مؤقف پیش کرنے اور منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مذید خبریں
ججز کو جذبات نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے: وفاقی آئینی عدالت – urdureport.com
وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کو پنشن دینے کا حکم – urdureport.com
عدالت نے زور دیا کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہونی چاہیے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


