کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے منگی ڈیم چیک پوسٹ (Check Post) پر ہونے والے حملے کی تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گردوں نے براہِ راست حملہ کرنے کے بجائے کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائرنگ (Firing) جاری رکھی تاکہ پولیس کا گولہ بارود (Ammunition) ختم ہو جائے اور بعد میں حملہ آسانی سے کیا جا سکے۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق حملے سے قبل انٹیلی جنس اداروں (Intelligence Agencies) نے ممکنہ خطرے سے متعلق الرٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد چیک پوسٹ (Check Post) پر اضافی نفری اور بہتر اسلحہ تعینات کیا گیا۔ 6 جولائی کو ڈی ایس پی (DSP) کی قیادت میں تقریباً 35 پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے، جبکہ قریب ترین ایف سی پوسٹ (FC Post) تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع تھی۔

فائرنگ کا آغاز
حکام کے مطابق صبح تقریباً 11 بجے دور دراز پہاڑی علاقوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ (Firing) شروع ہوئی، جس کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیڈکوارٹرز (Headquarters) اور ایف سی (FC) کو دے دی گئی۔ ابتدائی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کمانڈرز نے فیصلہ کیا کہ موجودہ نفری حملے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
احتیاطی اقدام کے طور پر پولیس کی اضافی کمک (Backup Force) روانہ کی گئی، جبکہ ایف سی (FC) نے فضائی نگرانی کے لیے مسلح وی ٹی او ایل ڈرون (VTOL Drone) اور ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیا، جنہوں نے کئی گھنٹوں تک علاقے کی نگرانی جاری رکھی۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کی حکمت عملی یہی تھی کہ مسلسل مگر وقفے وقفے سے فائرنگ (Firing) کر کے پولیس کو زیادہ سے زیادہ گولہ بارود (Ammunition) استعمال کرنے پر مجبور کیا جائے۔ شام تک پولیس کے پاس موجود بیشتر گولہ بارود استعمال ہو چکا تھا، تاہم اہلکار اپنی پوزیشنز پر ثابت قدم رہے۔
شدید فائرنگ سے نشانہ
جب پولیس کی کمک (Backup Team) چیک پوسٹ (Check Post) کے قریب پہنچی تو دہشت گردوں نے اس پر بھی شدید فائرنگ (Firing) کی، جس کے باعث نفری کو کچھ فاصلے پر رکنا پڑا۔ اس دوران ایف سی (FC) نے مارٹر فائر (Mortar Fire) اور وی ٹی او ایل ڈرون (VTOL Drone) کی مدد سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد مشترکہ پیش قدمی دوبارہ شروع کی گئی۔
مذید خبریں
برطانیہ: گرومنگ گینگ سربراہ شبیر احمد کی منتقلی، پاکستان کا انکار – urdureport.com
سی ٹی ڈی اہلکار سے فراڈ، ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کے خلاف دو مقدمات درج – urdureport.com
اندھیرا چھاتے ہی دہشت گردوں نے چیک پوسٹ (Check Post) پر براہِ راست حملہ کر دیا۔ پولیس اہلکاروں نے بھرپور مزاحمت کی اور شدید جھڑپ کے دوران 15 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 9 پولیس اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گولہ بارود (Ammunition) تقریباً ختم ہونے کے بعد باقی ماندہ اہلکار دو گروپوں میں محفوظ مقام کی طرف روانہ ہوئے۔ ڈی ایس پی (DSP) کی قیادت میں ایک گروپ کامیابی سے نکل آیا، تاہم دوسرے گروپ کے 18 اہلکار راستے میں دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ گئے۔
بلوچستان حکومت کے مطابق واقعے کے بعد ایف سی (FC) اور پاکستان آرمی (Pakistan Army) نے 300 مربع کلومیٹر سے زائد دشوار گزار علاقے میں بڑے پیمانے پر کومبنگ آپریشن (Combing Operation) شروع کر دیا ہے، جو دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔


