برطانوی حکومت نے نوعمر گوری لڑکیوں کے جنسی استحصال میں ملوث ایک گروہ کے سرغنہ شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہوم سیکریٹری اس مقصد کے لیے متعلقہ قانون میں ترمیم کریں گی تاکہ روچڈیل کے اس گرومنگ گینگ کے سرغنہ کو ملک بدر کیا جا سکے، جس نے بارہ سال تک کی عمر کی بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
جبکہ دوسری جانب ذرائع کے مطابق پاکستان نے روچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی مجرم شبیر احمد کو واپس لینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد برطانوی حکومت نے اس کی ملک بدری ممکن بنانے کے لیے قانونی تبدیلیوں پر غور شروع کیا ہے۔
شبیر احمد، جو کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور ریپ کے متعدد مقدمات میں سزا یافتہ ہیں، حال ہی میں اپنی قید مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہوئے ہیں۔ ان کی برطانوی شہریت پہلے ہی منسوخ کی جا چکی ہے، تاہم موجودہ قوانین کے باعث انہیں پاکستان بھیجنا ممکن نہیں ہو سکا۔
روچڈیل سے رکنِ پارلیمنٹ پال وا نے اس معاملے پر حکومتی وزرا سے جلد از جلد قانونی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حکام اس مجرم کو برطانیہ سے نکال سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے متاثرین کو یہ اطمینان ملے گا کہ انہیں دوبارہ کبھی اس شخص کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم انہوں نے زور دیا کہ اگلا اہم مرحلہ پاکستان پر واضح کرنا ہے کہ اسے اپنے شہری کو واپس قبول کرنا ہو گا۔
مذید خبریں
برطانیہ:کمسن بچیوں کا ریپ کرنے والے گینگ کے سربراہ "ڈیڈی”کی پاکستان منتقلی – urdureport.com
سی ٹی ڈی اہلکار سے فراڈ، ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کے خلاف دو مقدمات درج – urdureport.com
برطانیہ میں شدید بحث
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں پاکستانی نژاد افراد کے زیرِ قیادت گرومنگ گینگز کے معاملے پر عرصے سے بحث جاری ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد ایسے کیسز منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں پاکستانی نژاد سرغنہ نوعمر لڑکیوں کے جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے اور طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان واقعات نے برطانیہ میں اس حساس موضوع پر سماجی اور سیاسی سطح پر گہری تشویش کو جنم دیا ہے۔
دیگر گینگز
شبیر احمد کا مقدمہ اسی نوعیت کی طویل قانونی لڑائی کے بعد دو دیگر گرومنگ گینگ ارکان، قاری عبدالروف اور عادل خان، کے مقدمات کے بعد سامنے آیا تھا۔


