اسلام آباد: حکومت پاکستان کی نئی چار سالہ حج پالیسی (Four-Year Hajj Policy) کے تحت 2027 سے 2030 کے دوران حج ادا کرنے کے خواہشمند تین لاکھ 40 ہزار (340,000) سے زائد پاکستانیوں نے آن لائن رجسٹریشن (Online Registration) مکمل کر لی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کا مقصد حج انتظامات (Hajj Operations) کو زیادہ مؤثر، شفاف اور آسان بنانا ہے۔
ایک بار رجسٹریشن، چار سال تک مؤثر
وفاقی کابینہ کی منظور کردہ نئی حج پالیسی (Hajj Policy) کے مطابق 2027 سے 2030 کے دوران حج پر جانے کے خواہشمند افراد کو صرف ایک مرتبہ رجسٹریشن (Registration) کرانا ہوگی۔ اس کے بعد ہر سال دوبارہ اندراج کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے عازمین کو سہولت ملے گی اور حکومتی منصوبہ بندی بھی بہتر ہو سکے گی۔
سرکاری اور نجی حج سکیم میں رجحان
وزارت مذہبی امور (Ministry of Religious Affairs) کے مطابق رجسٹریشن کرانے والوں میں تقریباً 2 لاکھ 46 ہزار (246,000) افراد نے سرکاری حج سکیم (Government Hajj Scheme) جبکہ 94 ہزار (94,000) افراد نے نجی حج سکیم (Private Hajj Scheme) کا انتخاب کیا ہے۔
پنجاب سب سے آگے
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب (Punjab) سے سب سے زیادہ ایک لاکھ 56 ہزار (156,000) افراد نے رجسٹریشن کرائی۔ اس کے بعد سندھ (Sindh) سے تقریباً ایک لاکھ (100,000)، خیبر پختونخوا (Khyber Pakhtunkhwa) سے 51 ہزار (51,000)، اسلام آباد (Islamabad) سے 15 ہزار (15,000)، بلوچستان (Balochistan) سے 12 ہزار (12,000)، آزاد کشمیر (Azad Kashmir) سے 2 ہزار 600 (2,600) اور گلگت بلتستان (Gilgit-Baltistan) سے 1 ہزار 200 (1,200) افراد نے آن لائن اندراج مکمل کیا۔
حج اخراجات کا اعلان جلد متوقع
وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق حج واجبات (Hajj Dues) وصول کرنے کے طریقہ کار اور شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ رجسٹرڈ درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رہنمائی کے لیے پاک حج ایپ (Pak Hajj App) اور حج ہیلپ لائن (Hajj Helpline) سے استفادہ کریں، اپنی معلومات درست رکھیں اور گروپ صرف اہل خانہ پر مشتمل بنائیں۔
مذید خبریں
پاکستان کی چار سالہ حج پالیسی 2027-2030 منظور، رجسٹریشن نظام میں بڑی تبدیلی – urdureport.com
حج 2027 کی پالیسی اور ٹائم لائن کا شیڈول جاری – urdureport.com
حج انتظامات کی جدید منصوبہ بندی
حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم (Digital Registration System) اور ملٹی ایئر حج پلان (Multi-Year Hajj Plan) کے ذریعے عازمین کو زیادہ سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ حج انتظامات کو بھی بہتر انداز میں ہم آہنگ کیا جا سکے گا۔


