اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں سے متعلق متنازع مواد پھیلانے کے الزام میں طلبی نوٹس جاری کر تے ہوئے ان کو ہدایت کی ہے کہ وہ 20 جولائی کو اسلام آباد میں تحقیقاتی افسر کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔
نوٹس جاری ہونے کی وجہ کیا ہے؟
این سی سی آئی اے کے مطابق ایک جاری انکوائری کے دوران ایسے سوشل میڈیا مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس میں مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا، اشتعال انگیز اور توہین آمیز بیانیہ پھیلایا گیا۔ اسی سلسلے میں نورین نیازی کو طلب کیا گیا ہے تاکہ تحقیقات کے دوران ان کا مؤقف بھی ریکارڈ کیا جا سکے۔

وائرل ویڈیو کے بعد کارروائی
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سوشل میڈیا پر نورین نیازی کے ایک انٹرویو کا مختصر کلپ وائرل ہوا، جس میں مبینہ طور پر انہوں نے پاکستانی فوج، حالیہ علاقائی صورتحال، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ابراہم معاہدوں سے متعلق گفتگو کی تھی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مختلف حلقوں میں اس پر شدید بحث شروع ہوگئی۔
عدم پیشی پر قانونی کارروائی کا انتباہ
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نورین نیازی مقررہ وقت پر این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ طلبی نوٹس پر عمل نہ کریں تو قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔
مذید خبریں
عمران خان کی قید کے تین سال اور سابق وزرا اعظم کی جیل کہانیاں – urdureport.com
حکومت کا ردعمل
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے نورین نیازی کے مبینہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت مسلسل ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ اختیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں نے معاملے پر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے اور ہر شخص کو قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
صحافی کا مؤقف
انٹرویو کرنے والے صحافی احتشام اللہ بیہلم کے مطابق یہ انٹرویو کئی ماہ قبل ریکارڈ کیا گیا تھا، تاہم ادارتی سطح پر اسے نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مشاورت کے لیے ویڈیو کے چند مختصر حصے ادارتی ٹیم کو بھیجے گئے تھے، جن میں سے ایک کلپ بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ویڈیو کس ذریعے سے عوامی سطح پر پہنچی۔


