نیویارک: نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کے اس بیان کے بعد قانونی اور سیاسی بحث شروع ہوگئی ہے کہ اگر اسرا8ئیلی وزیرِ اعظم بنیا*مین نیت,ن یا*ہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آئے تو ان کی گرفتاری کے قانونی امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایک انٹرویو میں زہران ممدانی نے کہا کہ ان کی قانونی ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے وارنٹ کی روشنی میں کوئی قانونی کارروائی ممکن ہے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی اقدام کا فیصلہ قانون کے مطابق ہی کیا جائے گا۔
غیر عملی اقدام؟
دوسری جانب امریکی حکام اور اسرا*ئیلی سفارت کاروں نے ممدانی کے بیان کو غیر عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا، جبکہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک سربراہانِ مملکت کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے معاملات میں اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی شہر کے میئر کے پاس۔
اسرا*ئیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈ*ینی ڈ*ینن نے ممدانی کے بیان کو سیاسی شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ سابق امریکی سفیر ڈین شاپیرو نے کہا کہ اگر گرفتاری کی کوئی ناکام کوشش کی گئی تو اس سے mlzmاس کو سیاسی فائدہ بھی مل سکتا ہے۔
مذید خبریں
ظہران ممدانی کا پشاور کو نیویارک کا جڑواں شہر قرار دینے کا فیصلہ – urdureport.com
قرآن پاک پر حلف اٹھانا زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے،زہران ممدانی – urdureport.com
یاد رہے کہ آئی سی سی نے 2024 میں غز*ہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے الزامات پر بنیا*مین یا*ہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، تاہم ان کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔


