بھارت میں میڈیکل کالجوں میں داخلوں اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری کاکروچ جنتا پارٹی کےمظاہروں پر معروف اداکاروں نے مظاہرین کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ کچھ فنکاروں نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے احتجاج کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
دہلی (Delhi) میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاج اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے بعد احتجاج کا دائرہ ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی (Cockroach Janata Party – CJP)” کوئی روایتی یا رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں ہے، بلکہ یہ نوجوانوں اور طلبہ کی جانب سے قائم کیا گیا ایک احتجاجی پلیٹ فارم ہے، جسے انہوں نے علامتی طور پر یہ نام دیا ہے اور وہ اپنے مطالبات کے حق کے لیے نیو دلی جنتر منتر پر دھرنا دئیے بیھٹے ہیں۔

نصیر الدین شاہ کی حکومت پر سخت تنقید
سینئر اداکار نصیر الدین شاہ (Naseeruddin Shah) نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی نوجوان نسل اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے اور ان کی جدوجہد کو دبانے کے بجائے سنا جانا چاہیے۔
انہوں نے طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان مستقبل کی امید ہیں اور انہیں اپنے جائز مطالبات کے لیے ثابت قدم رہنا چاہیے ،اقتدار میں بیٹھے افراد کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عوام سب کچھ یاد رکھتے ہیں۔
Delhi Protest Live Updates:
Naseeruddin Shah slams police action against student protesters, says 'sab yaad rakha jayega'pic.twitter.com/GUAENz4K5d
— The Wire (@thewire_in) July 22, 2026
انوپم کھیر اور پریتی زنٹا کی محتاط حمایت
اداکار انوپم کھیر (Anupam Kher) نے بھی طلبہ کی مایوسی اور مطالبات کو جائز قرار دیا، تاہم خبردار کیا کہ کسی بھی عوامی تحریک کو سیاسی مفادات رکھنے والے عناصر کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔
اسی طرح اداکارہ پریتی زنٹا (Preity Zinta) نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ طلبہ کے بہتر مستقبل اور تعلیمی اصلاحات کی حمایت ضروری ہے، لیکن احتجاج کو ایسے عناصر سے محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے جو انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
کئی فنکار مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہوگئے
طلبہ کی حمایت کرنے والوں میں پرکاش راج (Prakash Raj)، شبانہ اعظمی (Shabana Azmi)، سوارا بھاسکر (Swara Bhasker)، سوہا علی خان (Soha Ali Khan)، سونو سود (Sonu Sood)، دیا مرزا (Dia Mirza)، رتیش دیشمکھ (Riteish Deshmukh)، جنیلیا دیشمکھ (Genelia Deshmukh)، سوناکشی سنہا (Sonakshi Sinha)، ہما قریشی (Huma Qureshi) اور دلجیت دوسانجھ (Diljit Dosanjh) بھی شامل ہیں۔دلجیت دوسانجھ نے پولیس کی کارروائی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ طاقت کے استعمال کے بجائے ان کے مسائل سننے چاہییں، کیونکہ نوجوانوں کی آواز ہی جمہوریت کی اصل طاقت ہوتی ہے۔
حکومت کے حامی فنکار بھی میدان میں
دوسری جانب اداکارہ اور رکن پارلیمان کنگنا رناوت (Kangana Ranaut) نے احتجاج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیمی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) سے استعفے کا مطالبہ غیر منطقی ہے۔
اداکار اور سیاست دان روی کشن (Ravi Kishan) نے بھی مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، تاہم ان کے ایک بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی۔
احتجاج کی وجہ کیا ہے؟
بھارت میں یہ احتجاج میڈیکل داخلہ امتحان (NEET) سمیت مختلف مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی اور شفافیت کے فقدان کے خلاف شروع ہوا تھا۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کی جائے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔
مذید خبریں
دہلی : کاکروچ جنتر منتر سے نکل پڑے ، مودی کے لیے خطرے کی گھنٹی – urdureport.com
انڈیا میں جین زی کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ اکاؤنٹ معطل، لاکھوں فالورز – urdureport.com
احتجاج میں شدت آنے کے بعد اپوزیشن جماعت کانگریس (Congress) نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے وزیر تعلیم (Education Minister)، وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) اور وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) کے استعفوں کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ صورتحال پر قابو پانے اور مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


