اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر خدشات کے سائے گہرے کر دیے ہیں۔ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف آبنائے باب المندب میں کارروائیوں کی دھمکی کے بعد پاکستان نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اس کے بحری مفادات یا پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو قومی سلامتی پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں انہوں نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر ’حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔‘
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے سعودی ولی عہد سے گفتگو میں کہا کہ ’ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘

دفتر خارجہ کا موقف
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث پہلے ہی عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جبکہ باب المندب بھی دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی آئیل ٹیکنرز پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔اگر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کسی ممکنہ فوجی یا سکیورٹی تعاون میں کردار ادا کیا تو اس کے ایران کے ساتھ تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان نے اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی پر وہ اپنی قومی سلامتی اور اقتصادی مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

حوثیوں کے سعودی آئیل ٹینکرز پر حملے
سعودی عرب (Saudi Arabia) کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سعودی پریس ایجنسی (Saudi Press Agency – SPA) کے مطابق بحیرہ احمر (Red Sea) میں سعودی کمپنی سے وابستہ آئل ٹینکر اینسیلیا (Ancilia) پر حملے کے بعد جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
رپورٹ کے مطابق سعودی جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (Saudi General Transport Authority) کے ایک ذمہ دار ذریعے نے حملے کی تصدیق کی، تاہم ایجنسی نے حملہ آور کی نشاندہی نہیں کی۔ دوسری جانب یمن (Yemen) میں ایران (Iran) کے حمایت یافتہ حوثی گروپ (Houthis) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دو سعودی آئل ٹینکروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ان کی اعلان کردہ بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
باب المندب کیوں اہم ہے؟
باب المندب بحیرۂ احمر (Red Sea)کو خلیج عدن Gulf of Adenسے ملانے والی ایک اہم آبی راہداری ہے، جہاں سے گزرنے والے جہاز نہر سویز (Suez Canal) کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کو ممکن بناتے ہیں ۔دنیا کے ممالک تجارت کی غرض سے اس تنگ راستے سے گزارتے ہیں زیادہ تر تیل اور قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔
حوثیوں کا اعلان
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب پر الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ باب المندب میں سعودی مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور ان کی جانب سے یہ اقدام ان علاقوں میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر عائد پابندیوں کے ردعمل میں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سعودی حکومت نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے بحری جہازوں اور تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
حوثی باغی کون ہیں ؟
حوثی (Houthis) یا انصار اللہ (Ansar Allah) یمن (Yemen) کا ایک مسلح سیاسی و مذہبی گروہ ہے، جس کی بنیاد 1990 کی دہائی میں حسین بدر الدین الحوثی (Hussein Badreddin al-Houthi) نے شمالی یمن کے صوبہ صعدہ (Saada) میں رکھی۔ یہ گروہ 2014 میں دارالحکومت صنعاء (Sanaa) پر قبضے کے بعد یمن کی سیاست میں ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا۔
امریکہ (United States)، سعودی عرب (Saudi Arabia) اور مغربی ممالک حوثیوں پر ایران (Iran) کی عسکری و مالی حمایت کا الزام عائد کرتے ہیں، جبکہ حوثیوں نے حالیہ برسوں میں سعودی عرب، اسرا*ئیل (Isr*ael) اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بیرونی مداخلت کے خلاف اور فلس*طین (Pal*estine) کی حمایت میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
پاکستان کا سخت ردعمل
پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ بحیرۂ احمر میں پاکستانی بحری مفادات یا پاکستانی پرچم والے جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت ناقابل قبول ہوگی۔
اسلام آباد نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے تجارتی اور بحری مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ بحری جہاز رانی کی آزادی اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
پاکستان کو کیا خطرات لاحق ہیں؟
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، جبکہ یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں کے ساتھ اس کی تجارت بھی انہی سمندری راستوں پر انحصار کرتی ہے۔
اگر باب المندب Bab al-Mandab Straitمیں حملوں یا رکاوٹوں کے باعث جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں:خام تیل کی سپلائی میں تاخیر،شپنگ اور انشورنس اخراجات میں اضافہ،درآمدی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ اوربرآمدات کی ترسیل متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
مشرقِ وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اگر حوثی Houthis اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بحیرۂ احمر میں اپنی بحری نگرانی بڑھانا پڑ سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطرہ صرف پاکستانی پرچم والے جہازوں تک محدود نہیں بلکہ سعودی بندرگاہوں سے نکلنے والے ایسے آئل ٹینکر بھی حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو پاکستان کے لیے تیل لے کر روانہ ہوں۔
ان کے مطابق اگر پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کسی ممکنہ فوجی یا سکیورٹی تعاون میں کردار ادا کیا تو اس کے ایران کے ساتھ تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تیل کی سپلائی پر ممکنہ اثرات
پاکستان کی تیل کی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ہر ماہ درجنوں تیل بردار جہاز پاکستان پہنچتے ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد باب المندب کے راستے سفر کرتی ہے۔
اگر یہ گزرگاہ بند ہو جاتی ہے تو پاکستان کو متبادل اور طویل سمندری راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے نہ صرف ترسیل کا دورانیہ کئی گنا بڑھ جائے گا بلکہ فریٹ چارجز اور درآمدی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
مذید خبریں
آبنائے ہرمز:ایسی گزرگاہ کیسے بن گئی جو عالمی معشیت کو ڈبونے کی صلاحیت رکھتی ہے – urdureport.com
امریکہ کی سعودی عرب کو جوہری پروگرام کی اجازت : اربوں ڈالر کے معاہدے کی تیاری – urdureport.com
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان مستقبل میں نائجیریا، لیبیا اور امریکہ سمیت دیگر ممالک سے خام تیل درآمد کرنے کے امکانات پر بھی غور کر سکتا ہے۔
حوثیوں کی صلاحیت کتنی ہے؟
بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حوثیوں کے پاس ایسے ڈرون، میزائل اور سمندری بارودی سرنگیں موجود ہیں جن کی مدد سے وہ باب المندب میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل ناکہ بندی کے بجائے اگر صرف چند بڑے حملے بھی کیے جائیں تو شپنگ کمپنیاں، انشورنس ادارے اور عالمی تیل کی منڈیاں شدید دباؤ میں آ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین ایک بار پھر متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے بعد باب المندب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر دونوں اہم بحری گزرگاہیں غیر محفوظ ہو جاتی ہیں تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا، یورپ اور دنیا بھر کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور سمندری تجارت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔


