اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چار سالہ حج پالیسی 2027 تا 2030 متعارف کرا دی، جس کے تحت حج انتظامات کو جدید ڈیجیٹل نظام، شفافیت، میرٹ اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنایا جائے گا۔ نئی پالیسی میں عازمین حج کے لیے چار سالہ رجسٹریشن Four years Hajj policy، ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ، متعدد حج پیکیجز، نجی شعبے کے کردار میں اضافہ اور جدید شکایات ازالہ نظام سمیت متعدد اہم اصلاحات شامل ہیں۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف Sardar Yousaf نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات اور وژن کے مطابق تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد حج کے پورے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال، شفافیت کو یقینی بنانا اور عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نیشنل آئی ٹی بورڈ نے وزارت مذہبی امور کے ساتھ مل کر رجسٹریشن، مانیٹرنگ، شکایات کے ازالے اور بعد از حج جائزے سمیت تمام مراحل کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
چار سالہ رجسٹریشن اور ویٹنگ لسٹ
وفاقی وزیر کے مطابق پہلی بار عازمین حج اپنی پسند کے سال کے لیے پہلے سے رجسٹریشن کرا سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے چار سالہ رجسٹریشن اور مکمل ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں انتخاب "پہلے آئیں، پہلے پائیں” کی بنیاد پر ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کے وقت عازمین اندازاً حج اخراجات کا صرف 10 فیصد جمع کرا کر اپنی پسند کے سال کے لیے رجسٹر ہو سکیں گے۔
سرکاری اور نجی حج اسکیم کا کوٹہ برقرار
نئی پالیسی کے مطابق 2027 سے 2030 تک سرکاری اور نجی حج اسکیم کا کوٹہ بالترتیب 60 فیصد اور 40 فیصد برقرار رہے گا، تاہم وفاقی کابینہ ضرورت پڑنے پر اس تناسب میں تبدیلی کر سکے گی۔
حکومت بتدریج براہ راست حج انتظامات کرنے کے بجائے نگرانی، ریگولیشن اور معیار کو یقینی بنانے پر توجہ دے گی جبکہ نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ کیا جائے گا۔
مختلف حج پیکیجز اور شفاف معاہدے
سرکاری حج اسکیم کے تحت مختلف دورانیے کے متعدد حج پیکیجز متعارف کرائے جائیں گے تاکہ عازمین اپنی سہولت اور مالی استطاعت کے مطابق انتخاب کر سکیں۔
پالیسی کے مطابق رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، فضائی سفر اور سامان کی ترسیل کے لیے تین سے چار سال کے معاہدے کیے جا سکیں گے، جس سے سہولیات کا معیار بہتر اور اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
تمام نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حج کے تمام مراحل، رجسٹریشن سے لے کر شکایات کے ازالے، مانیٹرنگ، ادائیگیوں اور بعد از حج جائزے تک مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیے جائیں گے۔
نجی حج کمپنیوں کے لیے پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل (PHMP) کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے بکنگ، ادائیگیاں، نگرانی اور آڈٹ کا عمل مکمل طور پر آن لائن ہوگا۔
نجی حج کمپنیوں کی سخت نگرانی
نئی پالیسی کے تحت نجی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن اور نگرانی ان کی کارکردگی اور مقررہ معیار پر عمل درآمد کی بنیاد پر ہوگی، جبکہ سرکاری اور نجی دونوں حج انتظامات کا آزاد تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کرایا جائے گا تاکہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
رقم بچنے پر عازمین کو واپس ملے گی
پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ حج آپریشن مکمل ہونے کے بعد اگر جمع شدہ حج واجبات میں سے کوئی رقم بچتی ہے تو وہ عازمین حج کو واپس کر دی جائے گی، جبکہ تمام مالی ادائیگیاں صرف حکومت کے مقرر کردہ بینکاری ذرائع سے کی جائیں گی تاکہ مکمل شفافیت اور مالی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
تربیت، شکایات اور ایمرجنسی نظام
وفاقی وزیر نے کہا کہ عازمین حج کی تربیت کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، جس میں مناسک حج، موبائل ایپس کے استعمال، صحت، سعودی قوانین اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت شامل ہوگی۔
اس کے علاوہ جدید ڈیجیٹل شکایات ازالہ نظام، اپیل کا باقاعدہ طریقہ کار، ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم اور ایمرجنسی رسپانس ٹیم بھی قائم کی جائے گی، جبکہ حجاج محافظ اسکیم بھی برقرار رہے گی تاکہ دوران حج وفات، حادثے یا ہنگامی انخلا کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔
سعودی ویژن 2030 سے ہم آہنگ پالیسی
وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ حج پالیسی 2027 تا 2030 کو سعودی ویژن 2030 اور بین الاقوامی معیاری طریقہ کار سے ہم آہنگ بنایا گیا ہے تاکہ شفافیت، ڈیجیٹل گورننس، جوابدہی اور عازمین کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مذید خبریں
حج 2027: پاسپورٹ کی تجدید اور اجرا میں ترجیحی سہولت – urdureport.com
2027 سے 2030 حج رجسٹریشن: تین لاکھ 40 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی رجسٹریشن – urdureport.com
انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی پاکستان میں حج انتظامات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کا بنیادی مقصد ہر پاکستانی عازم حج کو محفوظ، بااعتماد، آسان اور باوقار سفری تجربہ فراہم کرنا ہے۔


