اسلام آباد: کینیڈا میں تعلیم، ملازمت یا اہل خانہ سے ملاقات کے لیے سفر کی منصوبہ بندی کرنے والے پاکستانی شہریوں کو اب ویزا حاصل کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ کینیڈین امیگریشن حکام نے پاکستان سے جمع ہونے والی مختلف ویزا درخواستوں کی متوقع پراسیسنگ مدت میں اضافہ کر دیا ہے۔
کن ویزا کیٹیگریز میں کتنا وقت بڑھا؟
تازہ ترین معلومات کے مطابق اسٹڈی پرمٹ کی درخواستوں کی متوقع پراسیسنگ مدت اب 6 ہفتوں کے بجائے 7 ہفتے ہو گئی ہے۔ اسی طرح ورک پرمٹ کے لیے انتظار کا دورانیہ 10 ہفتوں سے بڑھ کر 11 ہفتے کر دیا گیا ہے۔
وزیٹر ویزا کے درخواست گزاروں کو بھی پہلے سے زیادہ انتظار کرنا ہوگا، کیونکہ اس کی متوقع پراسیسنگ مدت 40 دن سے بڑھ کر 43 دن ہو گئی ہے۔ والدین اور دادا دادی کے لیے جاری کیے جانے والے سپر ویزا کی پراسیسنگ بھی 194 دن سے بڑھ کر 196 دن تک پہنچ گئی ہے۔
پراسیسنگ ٹائم کب سے شمار ہوتا ہے؟
امیگریشن حکام کے مطابق ویب سائٹ پر درج پراسیسنگ ٹائم صرف اندازاً ہوتا ہے۔ اس کا آغاز اس وقت سے کیا جاتا ہے جب درخواست مکمل دستاویزات اور بائیومیٹرکس سمیت متعلقہ حکام کو موصول ہو جاتی ہے۔
چونکہ پاکستان میں وی ایف ایس مراکز پر بائیومیٹرکس اپائنٹمنٹ کے حصول میں بھی وقت لگ سکتا ہے، اس لیے مجموعی انتظار سرکاری اندازے سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
تاخیر کی وجوہات کیا ہیں؟
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے کینیڈا جانے کے لیے بڑھتی ہوئی درخواستوں نے امیگریشن نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر سال تعلیمی سیشن کے آغاز سے قبل اسٹڈی پرمٹس کی بڑی تعداد اور گرمیوں کے دوران وزٹ و ورک ویزا درخواستوں میں اضافہ بھی پراسیسنگ کو سست کر دیتا ہے۔
طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کے لیے مشکلات
نئے پراسیسنگ اوقات کا سب سے زیادہ اثر ایسے طلبہ پر پڑ سکتا ہے جن کی کلاسیں جلد شروع ہونے والی ہیں۔ اگر ویزا بروقت جاری نہ ہوا تو انہیں اگلے تعلیمی انٹیک کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے اسکالرشپ یا داخلہ متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی طرح بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرنے والے امیدوار بھی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ بعض کمپنیوں کی جانب سے دی گئی جوائننگ ڈیڈ لائن ختم ہونے کی صورت میں ملازمت کی پیشکش واپس لیے جانے کا امکان موجود ہوتا ہے۔
درخواست گزاروں کے لیے اہم مشورے
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ویزا درخواست آخری وقت تک مؤخر نہ کی جائے بلکہ جلد از جلد جمع کرائی جائے۔ تمام مطلوبہ دستاویزات، مالی ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹ، پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ اور دیگر معلومات پہلی مرتبہ ہی مکمل اور درست فراہم کی جائیں تاکہ اضافی تاخیر سے بچا جا سکے۔
صرف سرکاری معلومات پر اعتماد کریں
امیگریشن حکام نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ ویزا قوانین اور پراسیسنگ ٹائم میں وقتاً فوقتاً تبدیلی آ سکتی ہے، اس لیے کسی بھی غیر مصدقہ خبر یا ایجنٹ کے دعوے پر انحصار کرنے کے بجائے صرف کینیڈین امیگریشن کی سرکاری معلومات کو ہی بنیاد بنایا جائے۔


