پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر پارٹی کے بنیادی مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس احتجاج میں ملک بھر سے کارکن شریک ہوں گے اور یہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن انداز میں منعقد کیا جائے گا۔
انہوں نے پشاور میں پی ٹی آئی ریلی PTI Rally Peshawar سے خطاب میں مزید کہا کہ انہوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے امیدیں ختم ہو چکی ہیں اور ادارے مفلوج ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق وہ خود احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گے اور کارکنوں کو کسی دباؤ یا خوف کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں،ہمارے مطالبات یہی ہیں کہ عدالتیں انصاف دے کر عمران خان کو رہا کریں اور آپ کو انصاف دینا ہی پڑے گا۔
پی ٹی آئی کے مطالبات
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا پہلا مطالبہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے زیرِ سماعت مقدمات Imran Khan Casesکو جلد مقرر کرکے انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق دوسرا اہم مطالبہ عمران خان کی اپنے وکلا، اہلِ خانہ، ڈاکٹروں اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی بحالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان نکات پر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو پارٹی 27 ستمبر کو احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد PTI Protest September 27 کی جانب لانگ مارچ PTI Islamabad March کرے گی۔
سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں عمران خان کی فوری رہائی Imran Khan Release کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت گزشتہ کئی برسوں سے قانونی اور آئینی طریقے سے جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کے بقول پارٹی کے تمام مطالبات جائز ہیں اور انہیں پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے منوانے کی کوشش جاری رکھی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ایک منظم منصوبے کے تحت اقتدار سے الگ کیا گیا، جبکہ ان کی گرفتاری کے بعد ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوان مایوسی کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
کے پی میں دہشت گردی
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی سے شدید متاثر ہے اور بنوں، لکی مروت اور سوات سمیت مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورت حال تشویشناک ہے، تاہم پالیسی ساز اس مسئلے پر مطلوبہ توجہ نہیں دے رہے۔ ان کے مطابق اگر موجودہ نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا تو ملک کو ایک قابلِ عمل متبادل راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد انصاف کی فراہمی سے متعلق عوام کی توقعات کمزور پڑ گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کو مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
سہیل آفریدی نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ احتجاج کے دوران ہر صورت امن برقرار رکھیں اور کسی بھی قسم کے تصادم یا تشدد سے گریز کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی جانب سے مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف کارروائی پر اکسانے کی کوشش کی جائے تو اس پر عمل نہ کیا جائے کیونکہ یہ پارٹی پالیسی کے خلاف ہے۔
بیرسٹر گوہر کی تقریر
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہرBarrister Gohar نے بھی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں اور پشاور کا اجتماع حالیہ جلسوں کی اہم کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے عوامی اجتماعات کا مرحلہ اختتام کے قریب ہے، جس کے بعد پارٹی اپنی تحریک کے اگلے مرحلے کا باضابطہ اعلان کرے گی۔
مذید خبریں
عمران خان کی قید کے تین سال اور سابق وزرا اعظم کی جیل کہانیاں – urdureport.com
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ کشیدگی سے بچنے اور سیاسی مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول اس رویے کو کمزوری سمجھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب کارکنوں کے مطالبات کے لیے مؤثر عوامی تحریک چلائی جائے گی۔
دوسری جانب عمران خان اگست 2023 سے ایک کرپشن کیس میں سزا کے بعد جیل میں قید ہیں، جبکہ ان کے خلاف کرپشن، ریاستی راز افشا کرنے اور دیگر مقدمات بھی زیرِ سماعت رہے ہیں۔ عمران خان اور پاکستان تحریکِ انصاف ان تمام مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام قانونی کارروائیاں قانون کے مطابق اور آزادانہ انداز میں انجام دی گئی ہیں۔


