امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر پیش رفت ’مثبت رخ‘ اختیار کر چکی ہے ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ امریکی مسلح افواج نے اب آبنائے ہرمز پر مکمل گرفت حاصل کر لی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران نے اس آبی گزرگاہ میں کوئی مہم جوئی کی تو اسے سخت ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ کے بقول: ’آبنائے ہرمز اب ہمارے کنٹرول میں ہے، اور ہماری پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہے۔‘
ٹرمپ کا بیان کیوں؟
عرب نشریاتی اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ٹرمپ کا یہ ردعمل دراصل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے حالیہ بیان کے جواب میں سامنے آیا۔
جنرل محبی نے دعویٰ کیا تھا کہ رمضان کے دوران ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بعد سے اب خلیج فارس میں کوئی بھی امریکی بحری جہاز موجود نہیں رہا۔
اسی دوران امریکی افواج نے ایران کی سمت بڑھنے والے ایک پاناما کے پرچم بردار مال بردار جہاز کو روکنے کی خاطر دو ہیل فائر میزائل فائر کیے۔
امریکی حکام کے مطابق جہاز نے بار بار وارننگ سگنلز کو نظرانداز کیا، جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔


