اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ان کے منافع کے مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے موٹر اسپرٹ (MS) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) پر پٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی منظوری دی، جس کے بعد ڈیلرز کا بنیادی مارجن 8.64 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 9.98 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ECC اجلاس کے بعد ڈیلرز کے نظرثانی شدہ مارجن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 1.30 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی
وزارت خزانہ کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ورچوئل طور پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر غور کیا گیا، جس میں موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی کی تجویز دی گئی تھی۔
کمیٹی نے معاملے پر تفصیلی غور کے بعد ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ سمیت متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
مارجن کیسے ملے گا؟
نئے فیصلے کے بعد پٹرولیم ڈیلرز کو پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت پر فی لیٹر زیادہ مارجن حاصل ہوگا۔ حکومت کی جانب سے یہ اضافہ اسٹیک ہولڈرز کے مطالبے کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
تاہم دستیاب معلومات میں اس فیصلے کے نتیجے میں پٹرول یا ہائی اسپیڈ ڈیزل کی صارفین کے لیے فی لیٹر قیمت میں کسی اضافے کی نئی رقم نہیں بتائی گئی، اس لیے ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کو براہ راست پٹرول کی نئی قیمت میں اضافے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔


