پاکستان میں گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس شدت سے اضافہ ہوا ہے، وہ خطے کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ ہے۔
پاکستان چونکہ اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 فیصد درآمد کرتا ہے، اس لیے یہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ سے منسلک رہتی ہیں۔ ماضی میں قیمتوں کا تعین ہر پندرہ روز بعد کیا جاتا تھا، مگر موجودہ علاقائی بحران کے بعد حکومت نے ہر ہفتے قیمتوں کا جائزہ لینے اور جمعے کے روز نئی قیمتوں کے اعلان کا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔

تازہ ترین فیصلے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 15 روپے مہنگا ہو کر 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر کا ہو گیا۔
حکومت نے قیمت کیوں بڑھائی؟
سرکاری دستاویزات کے مطابق عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا تھا، اس کے باوجود حکومت نے اس کی قیمت بڑھائی۔ اس اضافے کی اصل وجہ پیٹرول پر عائد لیوی میں تقریباً 14 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہے، جس کے بعد یہ 103 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔
اسی طرح ڈیزل کی بین الاقوامی قیمت کے حساب سے اس میں تقریباً ساڑھے سات روپے فی لیٹر اضافے کا جواز بنتا تھا، لیکن حکومت نے قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ اس فرق کی وجہ ڈیزل پر لیوی کا 28 روپے 69 پیسے سے بڑھ کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر تک پہنچ جانا ہے۔
وفاقی وزیر کا موقف
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پہلے بھی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود صارفین کو ریلیف دیا تھا اور اب مالیاتی تقاضوں کے تحت لیوی بڑھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ شرائط پوری کرنے کے لیے کیا گیا۔
مذید پڑھئِں
عیدالاضحیٰ سے قبل پنجاب کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے خوشخبری – urdureport.com
پاکستان میں 500 میگاواٹ فلوٹنگ سولر منصوبہ لگے گا – urdureport.com
دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے واضح کیا کہ ٹیکس وصولیوں میں کمی کے باعث حکومت کے پاس آمدن بڑھانے کے محدود ذرائع ہیں، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال میں حکومتی ٹیکس وصولیاں ہدف سے تقریباً 680 ارب روپے کم ہیں، جبکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت پہلے ہی اپنے مقررہ ہدف سے زائد رقم جمع کر چکی ہے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس صورتحال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرول پر لیوی کی حد 85 روپے فی لیٹر طے کی گئی تھی، لیکن حکومت اسے 120 روپے کے قریب لے گئی ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام شہری پر پڑ رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کار خلیق کیانی کے مطابق حکومت ریٹیل اور دیگر شعبوں سے مؤثر ٹیکس وصولی میں ناکامی کے باعث پٹرولیم لیوی کو آسان ذریعہ سمجھ رہی ہے۔ ان کے بقول یہ پالیسی وقتی ریونیو تو دے سکتی ہے، مگر اس سے مہنگائی اور عوامی مشکلات میں شدید اضافہ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی پالیسی برقرار رہی تو آنے والے ہفتوں میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑے گا۔


