پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حکومت نے سندھ کی Keenjhar Lake پر 500 میگاواٹ کے فلوٹنگ سولر پاور منصوبے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
243 ملین ڈالر مالیت کے اس منصوبے کا بنیادی مقصد ملک میں صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے سے سالانہ تقریباً 861.91 گیگاواٹ آور بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے قومی گرڈ کو نمایاں تقویت ملے گی۔
یہ منصوبہ انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (EPC) ماڈل کے تحت مسابقتی بولی کے ذریعے مکمل کیا جائے گا، تاکہ شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
فلوٹنگ سولر ٹیکنالوجی کی بدولت پانی کی سطح پر سولر پینلز نصب کیے جائیں گے، جس سے زمین کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ جدید نظام نہ صرف توانائی پیداوار میں اضافہ کرے گا بلکہ صنعتی اور شہری علاقوں کو بجلی کی مؤثر فراہمی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
مذید پڑھئِں
آئندہ بجٹ میں آٹو انڈسٹری کو بڑا ریلیف، گاڑیاں سستی ہونے کا امکان – urdureport.com
گلاں بھارو کو یقین تھا اسےقتل کریں گے۔ایک دل دہلا والی داستان – urdureport.com
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے 2030 کے ماحولیاتی اہداف کے حصول اور توانائی کے شعبے میں خودکفالت کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسے قابلِ تجدید توانائی منصوبے ملک کو توانائی بحران سے نکالنے اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔


