وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں آٹو انڈسٹری کے لیے بڑے ٹیکس ریلیف پر غور کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں چھوٹی گاڑیوں، ہائبرڈ اور الیکٹرک وہیکلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے، ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور سی کے ڈی کٹس پر ٹیکس کم کرنے کی تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ گاڑیوں کی پیداواری لاگت کم کی جا سکے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نان لوکلائزڈ پارٹس پر 5 فیصد جبکہ لوکلائزڈ پارٹس پر 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں 5 سے 10 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
تخمینوں کے مطابق 660 سی سی سے 1000 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں 2 سے 5 لاکھ روپے تک سستی ہو سکتی ہیں، جبکہ الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کی قیمتوں میں بھی واضح کمی آنے کا امکان ہے۔
مذید پڑھئِے
حکومت نے آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ٹارگٹڈ سبسڈی ختم! – urdureport.com
دنیا کا بڑا آٹو شو :نئی چینی الیکٹرک گاڑیاں عالمی مارکیٹ پر چھا گئیں – urdureport.com
الیکٹرک وہیکل پالیسی وسعت
ذرائع کے مطابق حکومت الیکٹرک وہیکل پالیسی کو مزید وسعت دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔ نئی تجاویز کے تحت پلگ اِن ہائبرڈ، رینج ایکسٹینڈڈ اور فیول سیل گاڑیوں کو بھی ’نیو انرجی وہیکلز‘ کی کیٹیگری میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جا سکے۔
اس کے علاوہ مقامی مینوفیکچررز کو محدود تعداد میں رعایتی ڈیوٹی پر الیکٹرک گاڑیاں، بائیکس اور رکشے اسمبل کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ہر کمپنی کو 100 گاڑیوں تک خصوصی رعایت دیے جانے کا امکان ہے، جبکہ یہ سہولت 30 جون 2027 تک برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پاکستان آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر صرف ایک فیصد جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ اور دیگر ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر حکومت یہ تجاویز بجٹ کا حصہ بناتی ہے اور آٹو کمپنیاں اس ریلیف کا فائدہ صارفین تک منتقل کرتی ہیں تو کئی برس بعد پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں حقیقی کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تاہم حتمی صورتحال بجٹ اعلانات اور بعد ازاں کمپنیوں کی نئی قیمتوں پر منحصر ہوگی


