سکھر میں ’غیرت‘ کے نام پر قتل: عدالت میں جان کا خدشہ ظاہر کرنے والی خاتون چند دن بعد قتل کر دی گئی۔
سندھ کے شہر سکھر میں ایک افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر ’غیرت‘ کے نام پر قتل جیسے سنگین سماجی مسئلے کو نمایاں کر دیا، جہاں اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کرنے والی ایک 23 سالہ خاتون چند روز بعد اپنے ہی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل کر دی گئی۔
گلاں بھارو کو یقین تھا کہ اسے قتل کر دیا جائے گا مگر اس نے باپ کی پگڑی کی لاج رکھ لی۔۔
ایک دل دہلا دینے والی داستان
تفصیل پڑھئیےhttps://t.co/58PJBYbLQx#honourkilling #UrduReport #Sindh pic.twitter.com/SmrxAX0RaV— Urdu Report (@UrduReportpk) May 5, 2026
دو بچوں کی ماں گلاں بھارو نے چند روز قبل عدالت میں پیشی کے دوران واضح الفاظ میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر انہیں خاندان کے حوالے کیا گیا تو ان کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ تاہم عدالتی کارروائی کے دوران ایک جذباتی منظر نے صورتحال بدل دی۔
گل بھارو نے پگڑی کی لاج رکھ لی
عدالت کے احاطے میں خاتون کے والد نے روایتی سندھی پگڑی بیٹی کے قدموں میں رکھ کر اسے گھر واپس آنے کی اپیل کی۔ سندھی ثقافت میں پگڑی عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے، اور اسے کسی کے قدموں میں رکھنا انتہائی عاجزی اور منت کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھئِے
سی ایس ایس دو ہندو نوجوان کامیاب:والدہ نے زیورات بیچ دئیے،گوردوارے سے لنگر کھائے – urdureport.com
صدر ٹرمپ پر حملے کے ملزم سے ناروا سلوک پر جج کی معذرت – urdureport.com
اس منظر کے بعد گلاں بھارو نے عدالت میں اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے والد کے ساتھ جانے پر رضامندی ظاہر کی، حالانکہ ابتدائی طور پر عدالت نے انہیں تحفظ کے لیے دارالامان بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق گلاں بھارو کی شادی تقریباً چھ برس قبل ہوئی تھی، تاہم گزشتہ چند برسوں سے وہ گھریلو تنازعات اور مبینہ تشدد کا سامنا کر رہی تھیں۔ اطلاعات ہیں کہ شوہر سے اختلافات کے بعد ان پر ’کاروکاری‘ کا الزام بھی عائد کیا گیا، جو سندھ کے بعض علاقوں میں خواتین کے خلاف تشدد اور قتل کے لیے بطور جواز استعمال ہوتا رہا ہے۔
گھر چھوڑنے کے بعد انہوں نے مقامی تھانے میں پناہ لی، جہاں سے انہیں قانونی کارروائی کے لیے عدالت پیش کیا گیا تھا۔
مقتولہ کا ملزم
پولیس حکام کے مطابق خاتون کو عدالتی حکم کے تحت تقریباً دس روز قبل والد کی تحویل میں دیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے مقتولہ کے ماموں کو مرکزی ملزم کے طور پر گرفتار کر لیا ہے جبکہ آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مقدمہ چار افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، جن میں سے دو گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
عدالتی پیشی کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر قتل کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ’غیرت‘ کا معاملہ قرار دیا، تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے جرائم کے لیے کسی بھی ثقافتی یا خاندانی روایت کو جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے واقعے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال متعدد خواتین ایسے جرائم کا نشانہ بنتی ہیں، جبکہ کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
قانونی ماہرن کی رائے
ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں صرف قانونی کارروائی کافی نہیں بلکہ متاثرہ خواتین کو مؤثر تحفظ، نفسیاتی معاونت اور سماجی دباؤ سے آزاد فیصلے کا ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ واضح خطرات کے باوجود متاثرہ خواتین کے تحفظ کے لیے موجود نظام کس حد تک مؤثر ہے، اور کیا معاشرہ ’غیرت‘ کے نام پر ہونے والے جرائم کے خلاف حقیقی تبدیلی کے لیے تیار ہے


