امریکی محکمۂ دفاع کی حالیہ بریفنگ کے دوران ایک غیرمعمولی سوال نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی، جب ایک صحافی نے ایران کے مبینہ ’خودکش ڈولفنز‘ سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے وضاحت طلب کی۔
اس سوال کے جواب میں ہیگستھ نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی نہ تو تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ ہی تردید کہ امریکہ کے پاس ایسے ڈولفنز موجود ہیں، تاہم وہ اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ایران کے پاس نہیں ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ شائع کی، جس میں ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو تہران امریکی بحری جہازوں کے خلاف ایسے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے جن میں آبدوزوں اور بارودی مواد لے جانے والے تربیت یافتہ ڈولفنز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا میں رپورٹ
رپورٹ کے بعد امریکی میڈیا میں اس موضوع پر کافی گفتگو ہوئی اور کئی نیوز چینلز نے اسے زیر بحث لایا۔ دوسری جانب ایران کے بعض میڈیا اداروں نے ان دعوؤں کو غیر سنجیدہ اور حیران کن قرار دیا۔
ایرانی مسلح افواج کی طرف سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، البتہ بیرونِ ملک ایرانی سفارتی مشنز نے اس خبر کو طنز و مزاح کا موضوع بنا دیا۔
مزید پڑھئِے
ایران جنگ ٹرمپ کے لیے بڑا جھٹکا:مقبولیت کی کم ترین سطح پر آگئے – urdureport.com
خلیج میں کشیدگی: فجیرہ حملے، آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر کروز حملے – urdureport.com
بھارت کے شہر حیدرآباد میں ایرانی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک تصویر شیئر کی، جس میں ایک ڈولفن کے ساتھ دھماکہ خیز مواد سے مشابہ ایک کنستر دکھایا گیا تھا۔ پوسٹ کے ساتھ طنزیہ انداز میں لکھا گیا کہ اب تمام راز بے نقاب ہو چکے ہیں۔
دعووں کا دلچسپ پہلو
دلچسپ امر یہ ہے کہ سمندری جانوروں کے فوجی استعمال کا تصور مکمل طور پر خیالی نہیں۔ امریکی بحریہ کئی برسوں سے ایک خصوصی میرین میمل پروگرام چلا رہی ہے، جس کے تحت ڈولفنز اور دیگر سمندری جانوروں کو بارودی سرنگوں کی نشاندہی، حساس اشیا کی تلاش اور سمندری سکیورٹی کے مختلف مشنز کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔ تاہم ان جانوروں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کیے جانے کی کوئی مصدقہ مثال سامنے نہیں آئی۔


