مغربی بنگال کی سبکدوش ہونے والی وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے انتخابی شکست کے بعد استعفیٰ دینے کے مطالبات مسترد کر دیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گی کیونکہ ان کے مطابق ان کی جماعت حقیقتاً الیکشن نہیں ہاری۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ انتخابی نتائج عوامی مینڈیٹ کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ یہ ایک منظم سازش کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری نتائج کچھ بھی ہوں، اخلاقی طور پر کامیابی ترنمول کانگریس کی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ واقعی ہارتیں تو راج بھون جا کر استعفیٰ پیش کر دیتیں، لیکن موجودہ صورتحال میں ایسا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی دباؤ یا زبردستی کے ذریعے انہیں مستعفی نہیں کیا جا سکتا۔
انتخابی دھاندلی کا الزام
ممتا بنرجی نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 100 نشستوں پر نتائج متاثر کیے گئے اور ووٹوں کی گنتی دانستہ طور پر سست رکھی گئی تاکہ ان کی جماعت کے کارکنوں کا حوصلہ توڑا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئِے
خلیج میں کشیدگی: فجیرہ حملے، آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر کروز حملے – urdureport.com
’خودکش ڈولفنز کی لڑائی‘ امریکی و ایرانی حکام کے نا قابل یقین دعوےٰ – urdureport.com
انہوں نے الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اصل لڑائی بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے تھی۔ ان کے مطابق بی جے پی نے الیکشن کمیشن کو استعمال کرتے ہوئے انتخابی نتائج اپنے حق میں کروائے۔
ترنمول کانگریس سربراہ نے ان نتائج کو جمہوریت کے لیے سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کی حکمت عملی پارٹی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔


