ٹیکنالوجی کمپنی Apple Inc. نے اپنے آئی فونز میں مصنوعی ذہانت سے متعلق فیچرز کی تشہیر کے معاملے پر دائر مقدمے کو عدالت سے باہر نمٹاتے ہوئے صارفین کو مجموعی طور پر 25 کروڑ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق کمپنی نے کسی قسم کی قانونی غلطی تسلیم نہیں کی، تاہم مقدمہ ختم کرنے کے لیے تصفیے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ مقدمہ ان صارفین کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جن کا مؤقف تھا کہ ایپل نے اپنے نئے اے آئی سسٹم ایپل انٹیلیجنس کی تشہیر میں ایسے دعوے کیے جو عملی طور پر پورے نہیں کیے گئے۔ شکایت کنندگان کے مطابق کمپنی نے صارفین کو یقین دلایا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے وائس اسسٹنٹ Siri کو جدید ترین ذاتی اے آئی معاون میں تبدیل کر دیا جائے گا، مگر وعدہ کیے گئے کئی فیچرز متعارف نہیں کرائے گئے۔
عدالتی تصفیے کے تحت وہ امریکی صارفین ادائیگی کے اہل ہوں گے جنہوں نے جون 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان iPhone 15 یا iPhone 16 خریدا۔ متاثرہ صارفین کو 25 سے 95 ڈالر تک معاوضہ دیا جائے گا۔
ایپل کمپنی کا بیان
ایپل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقدمہ بنیادی طور پر چند مخصوص اضافی فیچرز کی دستیابی سے متعلق تھا، اور کمپنی نے معاملہ اس لیے حل کیا تاکہ اپنی توجہ نئی ٹیکنالوجی اور صارفین کے لیے بہتر خدمات کی فراہمی پر مرکوز رکھ سکے۔
یہ بھی پڑھئِے
ایپل کمپنی کی پاکستان میں انٹری، آئی فون ری فربشنگ اور اسمبلنگ کا بڑا منصوبہ – urdureport.com
ایپل نے آئی فون 17 پرو سكریچ گیٹ،كممنی كو وضاحت دینا پڑی – urdureport.com
صارفین کے وکلا کا کہنا ہے کہ کمپنی نے مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی دوڑ میں اپنی پوزیشن مضبوط دکھانے کے لیے ایسے فیچرز کو انقلابی پیش رفت کے طور پر پیش کیا جو اس وقت دستیاب ہی نہیں تھے۔
درخواست گزاروں کے مطابق ایپل نے اپنی تشہیری مہم میں یہ تاثر دیا تھا کہ نئے آئی فون ماڈلز صارفین کو پہلے سے کہیں زیادہ ذہین اور ذاتی نوعیت کا اسسٹنٹ فراہم کریں گے، لیکن حقیقت میں صارفین کو وہ سہولیات نہ مل سکیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔


