اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پمز ہسپتال میں ملاقات کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ نیازی نے مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے دوران ملاقات اپنی صورتحال کا موازنہ مرسی کے حالات سے کیا۔
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق عمران خان نے انہیں بتایا کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور ان وک ٹارچر کیا جا رہا ہے ۔ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق ان کو مناسب طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے گفتگو کے دوران متعدد مرتبہ محمد مرسی کا ذکر کیا۔
پی ٹی آئی کا طویل عرصے سے مؤقف ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قیدِ تنہائی کا سامنا ہے اور انہیں مطلوبہ طبی سہولیات نہیں مل رہیں۔ اسی معاملے پر سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو جیل میں تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی کہا ہے کہ عمران خان کو ضرورت کے مطابق طبی سہولت فراہم کی جاتی رہے گی۔

محمد مرسی کی زندگی اور سیاسی سفر
محمد مرسی 1951 میں مصر کے صوبہ الشرقیہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکا سے انجنیئرنگ میں پی ایچ ڈی کی۔
مرسی کا تعلق اخوان المسلمون سے تھا۔ 2012 میں اخوان المسلمون کے سیاسی بازو فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے انہیں صدارتی امیدوار بنایا۔ صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد وہ مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر بنے۔
تاہم ان کی حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔ 2013 میں حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد مصری فوج نے 3 جولائی کو محمد مرسی کو اقتدار سے ہٹا دیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
اقتدار سے برطرفی کے بعد مرسی کو مختلف مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر مظاہرین کو حراست میں لینے، تشدد، غیر ملکی تنظیموں سے رابطوں اور دیگر الزامات کے تحت مقدمات چلائے گئے۔
عدالت میں محمد مرسی کی گفتگو
محمد مرسی کو مقدمات کی سماعت کے دوران کئی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایک اہم سماعت میں انہوں نے اپنی برطرفی کو فوجی بغاوت قرار دیا اور عدالت کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔
مرسی نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق وہ مصر کے صدر ہیں اور انہیں زبردستی قید کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت میں اپنی گرفتاری اور اقتدار سے ہٹائے جانے پر شدید احتجاج بھی کیا۔
بعد ازاں انہیں مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں۔ ان کے حامیوں نے ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا، جبکہ مصری حکام کا مؤقف تھا کہ انہیں قانونی مقدمات میں سزا دی گئی۔
عدالت میں ساؤنڈ پروف پنجرہ
محمد مرسی کو مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت میں ایک ساؤنڈ پروف پنجرے میں رکھا جاتا تھا۔ اس انتظام کے باعث وہ عدالت میں موجود دیگر افراد سے براہِ راست رابطہ نہیں کر سکتے تھے اور ان کی آواز بھی محدود رہتی تھی۔
17 جون 2019 کو اپنی آخری سماعت کے دوران بھی مرسی اسی پنجرے میں موجود تھے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے تقریباً پانچ منٹ تک گفتگو کی، جس کے بعد وہ اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
مرسی کے حامیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے عدالت میں انہیں اس طرح رکھنے اور قید کے حالات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جبکہ مصری حکام کے مطابق ساؤنڈ پروف پنجرہ سکیورٹی انتظامات کا حصہ تھا۔
قید، طبی سہولیات اور انسانی حقوق کے خدشات
مرسی کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی طویل قیدِ تنہائی اور طبی سہولیات کے حوالے سے بارہا خدشات ظاہر کیے۔
ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ مرسی کو مناسب علاج تک رسائی نہیں دی گئی اور ملاقاتوں پر بھی سخت پابندیاں عائد تھیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان کی قید کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔
مرسی کے اہل خانہ اور حامیوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیماریوں کا مناسب علاج نہ ہونے سے ان کی صحت شدید متاثر ہوئی، تاہم مصری حکام نے ان الزامات کی تردید کی۔
مصر کے سابق صدر اور اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی، جو 2012 میں ملک کے پہلے آزاد انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آئے اور ایک سال بعد فوج کے ہاتھوں معزول کر دیے گئے تھے
محمد مرسی کی موت کیسے ہوئی؟
17 جون 2019 کو محمد مرسی قاہرہ کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران اچانک گر کر بے ہوش ہوئے اور بعد ازاں انتقال کر گئے۔
67 سالہ مرسی نے موت سے کچھ دیر قبل عدالت سے خطاب کیا۔ وہ سماعت کے دوران ایک شیشے کے پنجرے میں موجود تھے، جہاں سے انہوں نے خبردار کیا کہ ان کے پاس ’’بہت سے راز‘‘ ہیں جنہیں وہ ظاہر کر سکتے ہیں۔ چند منٹ بعد مرسی اسی پنجرے کے اندر گر گئے۔سرکاری ٹی وی کے مطابق مرسی کو ہسپتال منتقل کیے جانے سے پہلے ہی ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔
مصر کے سرکاری حکام کے مطابق ان کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی۔ تاہم ان کے خاندان اور بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی قید کے حالات، طبی سہولیات کی مبینہ کمی اور طویل قیدِ تنہائی کو ان کی موت سے جوڑا۔
محمد مرسی کی موت آج بھی مصر کی سیاسی تاریخ کا ایک متنازع واقعہ سمجھی جاتی ہے۔
عمران خان سے متعلق ڈاکٹر عظمیٰ کے حالیہ بیان کے بعد محمد مرسی کی قید، عدالت میں ان کا مؤقف، ساؤنڈ پروف پنجرے میں پیشی اور موت کے حالات ایک بار پھر پاکستان میں سیاسی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔
مذید پڑھئیں


