پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیرمین عمران خان نے پمز ہسپتال میں اپنی بہن سے ملاقات کے دوران کہا کہ میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے مجھے ٹارچر کر رہے ہیں۔
عمران خان نے مزید کہا کہ دس ماہ سے میرے پاس نہ پڑھائی کا مواد، نہ ٹی وی موجود ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان کو پمز لے جا کر صرف آنکھوں کا مختصر معائنہ اور بلڈ پریشر چیک کیا گیا، جبکہ خون کے ٹیسٹ نہیں کیے گئے۔ طبی معائنے کی تفصیلات اور ڈاکٹر کی شناخت بھی اہلِ خانہ کو فراہم نہیں کی گئی۔
عمران خان نے بار بار ایک ہی چیز کہی کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، مجھے ٹارچر کر رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ایک کوئی اور ڈاکٹر بھی آیا تو اس نے کہا تھا ہیومن کانٹیکٹ نہیں ہونے کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوتی ہے۔
میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے مجھے ٹارچر کر رہے ہیں،دس ماہ سے انسانی رابطہ منقطع۔عمران خان pic.twitter.com/j08LeFX0KD
— Urdu Report (@UrduReportpk) August 21, 2026
پمز ہسپتال میں ملاقات
عمران خان کی بہن نے مزید بتایا کہ جب عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی بجائے پمز ہسپتال لایا گیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں کیوں لائے ہیں تو جواب دیا کہ یہاں پر ان کی آنکھ کا فالو اپ ہونا ہے اس لیے لایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت وہاں پر مکمل اندھیرا تھا کچھ لوگ اندھیرے میں نظر آرہے تھے مگر مکمل اندھیرا تھا۔ پھر عمران خان کو اندر لے جایا گیا اور رات کو کائی وقت تھا کیونکہ وقت کا پتہ نہیں ہمارے پاس فون نہیں ہوتا جب جیل جاتے ہیں تو قیدی کی طرح ملتے ہیں۔
عمران خان نے پیار کیا
انہوں نے کہا کہ پمز میں اندھیرا تحا ایک آدمی نے فون کی بتی سے مجھ کو راستہ دکھایا تو مین وہاں گئی۔پہلے مجھ کو ایک آفس میں بٹھایا پھر اوپر ایک کمرے میں لے گئے جہاں عمران خان بیھٹے تھے۔
جب میں ان کے پاس پہنچی تو عمران خان اٹھے مجھ کو پیار کیا اور کہا کہ مین اپنی بہن سے دس ماہ بعد مل رہا ہو ں۔


