• Home  
  • پمز آگ لگنے کے 16 منٹ بعد ایمرجنسی کال ،رپورٹ میں ہوشربا انکشافات
- پاکستان

پمز آگ لگنے کے 16 منٹ بعد ایمرجنسی کال ،رپورٹ میں ہوشربا انکشافات

اسلام آباد: پی آئی ایم ایس کی نرسری میں 26 اگست کو پیش آنے والی آتشزدگی کے حوالے سے انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں واقعے کے ابتدائی لمحات اور ایمرجنسی رسپانس سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ آگ 6:38 بجے لگی رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ […]

اسلام آباد: پی آئی ایم ایس کی نرسری میں 26 اگست کو پیش آنے والی آتشزدگی کے حوالے سے انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں واقعے کے ابتدائی لمحات اور ایمرجنسی رسپانس سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

آگ 6:38 بجے لگی

رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ نرسری میں ہنگامی صورتحال تقریباً 6:38 بجے شروع ہوئی۔ چارج نرس نسرین تقریباً 6:38:15 پر نرسری سے باہر آئیں اور مدد طلب کی۔

نرس نے بچے کو ریسکیو کیا

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی گارڈ ماریہ اور نرس نسرین دوبارہ نرسری میں داخل ہوئیں۔ اسٹاف نرس رضیہ بھی تقریباً 6:38:56 پر اندر گئیں اور چند سیکنڈ بعد ایک نومولود بچے کو اٹھا کر باہر لے آئیں۔

دو منٹ میں صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی

سی سی ٹی وی کے مطابق 6:39 کے بعد نرسری میں دھواں تیزی سے پھیل گیا۔ تقریباً 6:39:15 پر ایک کیمرہ دھویں سے تقریباً مکمل طور پر متاثر ہوگیا، جبکہ 6:40:08 تک دوسرے کیمرے کی منظر کشی بھی دھویں کے باعث متاثر ہوئی۔

انکوائری کمیٹی کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نرسری کی صورتحال تقریباً دو منٹ کے اندر انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہوگئی۔

ایمرجنسی سروسز کو کال 6:54 پر موصول ہوئی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی کے مطابق ہنگامی صورتحال تقریباً 6:38 بجے شروع ہوئی، جبکہ کپیٹل ایمرجنسی سروسز (CES) کے ریکارڈ میں پہلی کال 6:54 بجے موصول ہوئی۔

یوں دونوں اوقات میں تقریباً 16 منٹ کا فرق سامنے آتا ہے۔

16 منٹ کی تاخیر کس کی ذمہ داری؟

انکوائری کمیٹی نے فی الحال ان 16 منٹ کو کسی مخصوص شخص یا ادارے کی غفلت قرار نہیں دیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض شواہد میں اس سے پہلے کی کال کا بھی ذکر ہے، اس لیے ٹیلی فون ریکارڈ، پمز کنٹرول روم اور CES کی کال لاگز کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔

کال ملنے کے بعد ریسکیو 6 سے 7 منٹ میں پہنچا

رپورٹ کے مطابق CES کے ریکارڈ میں کال موصول ہونے کے بعد ریسکیو ٹیم کی آمد تقریباً 6 سے 7 منٹ بعد ہوئی۔

کمیٹی کے مطابق اس لیے اہم سوال صرف ریسکیو کے پہنچنے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ پمز کے اندر آگ کا بروقت پتا چلنے، الارم بجانے اور ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے کا نظام مؤثر تھا یا نہیں۔

آگ لگنے کی حتمی وجہ ابھی معلوم نہیں

انکوائری رپورٹ میں آگ لگنے کی حتمی تکنیکی وجہ ابھی طے نہیں کی گئی۔ اے سی، انکیوبیٹر یا وارمر، شارٹ سرکٹ، پلگ یا اوورلوڈنگ سمیت مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

عملے کے فرار ہونے کے دعوے کی تائید نہیں ہوئی

رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ تاثر درست ثابت نہیں ہوتا کہ فرنٹ لائن طبی اور نرسنگ عملہ نومولود بچوں کو چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔ فوٹیج میں عملے کی جانب سے متاثرہ نرسری میں داخل ہوکر ریسکیو کی کوششیں دکھائی دیتی ہیں۔

اصل سوال حفاظتی نظام کا ہے

کمیٹی نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ پمز میں فائر الارم، ہنگامی انخلا، تربیت اور نومولود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے واضح اور مؤثر ایس او پیز موجود تھے یا نہیں۔

حتمی ذمہ داری کا تعین بعد میں ہوگا

عبوری رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ آگ لگنے کی درست تکنیکی وجہ، حفاظتی خامیوں کے کردار اور انفرادی ذمہ داری کا حتمی تعین جامع رپورٹ میں کیا جائے گا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!