• Home  
  • ملک کے 36 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس: خواجہ آصف,پیپلز پارٹی کی مخالفت
- پاکستان

ملک کے 36 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس: خواجہ آصف,پیپلز پارٹی کی مخالفت

اردو رپورٹ ڈیسک اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور 36 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان انتظامی یونٹس کے لیے الگ اسمبلیاں یا وزرائے اعلیٰ کا ہونا ضروری نہیں۔ جمعرات 3 ستمبر 2026 کو […]

اردو رپورٹ ڈیسک


اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور 36 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان انتظامی یونٹس کے لیے الگ اسمبلیاں یا وزرائے اعلیٰ کا ہونا ضروری نہیں۔

جمعرات 3 ستمبر 2026 کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے مقامی حکومتوں، نئے انتظامی یونٹس اور ملک کی سیاسی و سفارتی صورتحال پر گفتگو کی۔

36 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز

خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ نظام مفلوج ہو چکا ہے اور اسے درست کرنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو نچلی سطح پر بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ بالآخر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ وفاقی سطح پر ہونا ہے۔ ان کے مطابق ’’صوبوں‘‘ کی اصطلاح بعض معاملات میں گمراہ کن طور پر استعمال کی جا رہی ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ ملک کے 36 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ ان تمام یونٹس میں الگ اسمبلیاں یا وزرائے اعلیٰ بھی ہوں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اگر جمہوریت پر یقین ہے تو اس کے اثرات نچلی سطح تک بھی نظر آنے چاہییں۔

پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پر تنقید

سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات بہتر ہیں، اسی لیے وہ اس معاملے پر محتاط انداز اختیار کر رہے ہیں۔

تاہم ان کے مطابق گزشتہ 15 برسوں کے دوران پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہے اور موجودہ قیادت ماضی کی مقبولیت بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ پارٹی نے گزشتہ دو سے تین سال میں جو سیاسی رویہ اختیار کیا ہے، اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والی نامناسب زبان پر بھی تنقید کی۔

سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد

دوسری جانب سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا۔

مراد علی شاہ کے مطابق قومی اسمبلی کو خبردار کیا جاتا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہ کی جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر مسئلہ بہتر طرز حکمرانی کا ہے تو صوبے تقسیم کرنے کے بجائے انتظامی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق صرف آبادی کو بنیاد بنا کر نئے صوبوں کے قیام کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ضرورت کے مطابق مزید اضلاع اور انتظامی یونٹس بنائے جا سکتے ہیں، لیکن انتظامی اصلاحات کو صوبے کی تقسیم کے معاملے کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے۔

متعلقہ خبر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!