• Home  
  • پاکستان میں BYD کے 150 ملین ڈالر کے پلانٹ کی لانچ ایک بار پھر مؤخر
- کار پرائس

پاکستان میں BYD کے 150 ملین ڈالر کے پلانٹ کی لانچ ایک بار پھر مؤخر

اردو رپورٹ ڈیسککراچی: سندھ کے علاقے گھارو میں BYD کے گاڑیوں کے اسمبلنگ پلانٹ کی تکمیل اور پیداوار شروع ہونے کا منصوبہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ پلانٹ کو مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں فعال ہونا تھا، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ شروع نہیں ہوسکا۔ ٹاپ لائن […]

اردو رپورٹ ڈیسک
کراچی: سندھ کے علاقے گھارو میں BYD کے گاڑیوں کے اسمبلنگ پلانٹ کی تکمیل اور پیداوار شروع ہونے کا منصوبہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔

پلانٹ کو مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں فعال ہونا تھا، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ شروع نہیں ہوسکا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک نوٹ کے مطابق حب پاور کمپنی لمیٹڈ نے تجزیہ کاروں کو بتایا ہے کہ BYD اسمبلنگ پلانٹ کو 2026 کی دوسری ششماہی میں فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔

پلانٹ کی ابتدائی پیداواری صلاحیت سالانہ 25 ہزار گاڑیاں ہوگی، جسے بڑھا کر 50 ہزار یونٹس تک کیا جاسکے گا۔ تاہم اس ہدف کی مقررہ مدت گزرے تقریباً دو ماہ ہوچکے ہیں۔

BYD پلانٹ میں حبکو کا حصہ

28 فروری 2025 کو حبکو نے تجزیہ کاروں کو بتایا تھا کہ میگا موٹر کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ سندھ میں گاڑیوں کا اسمبلنگ پلانٹ قائم کر رہی ہے۔ اس وقت اسے مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں فعال کرنے کا منصوبہ بتایا گیا تھا۔

منصوبے کے تحت پاکستان کے تین بڑے شہروں میں چار فلیگ شپ اور تین سروس ڈیلرشپس قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ حبکو اس منصوبے میں 50 فیصد حصص رکھتی ہے۔

جون 2024 میں حب پاور نے اپنی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ایچ پی ایچ ایل اور متعلقہ کمپنی میگا موٹر کے ذریعے BYD آٹو انڈسٹری کمپنی کے ساتھ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے کاروبار میں داخل ہونے کا معاہدہ کیا تھا۔

یہ منصوبہ چین کی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی BYD اور حب پاور کی ذیلی کمپنی میگا موٹر کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے۔

پلانٹ کی تاخیر کی وجوہات واضح نہیں

ان سوالات میں مقامی سطح پر گاڑیوں کی اسمبلنگ میں تاخیر کی وجوہات، پلانٹ کی موجودہ صورتحال، مقامی پیداوار کے منصوبے، مقامی اسمبلنگ شروع ہونے سے قبل BYD گاڑیوں کی مجموعی درآمدات اور پہلے سال کی پیداواری تعداد سے متعلق معلومات مانگی گئی تھیں۔

بروکریج ہاؤس کے مطابق حبکو انتظامیہ نے بتایا کہ پورے منصوبے میں 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ اس میں 90 ملین ڈالر منصوبے کی فنانسنگ کے لیے مختص ہیں۔

کمپنی کا ہدف 2030 تک الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کے مشترکہ شعبے میں 30 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرنا ہے۔تاہم کمپنی کی جانب سے انگریزی روزنامہ کو جواب نہیں دیا گیا۔

حبکو چارجنگ نیٹ ورک بھی بڑھا رہی ہے

دوسری جانب حبکو گرین کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ انفرااسٹرکچر بھی توسیع دی جارہی ہے۔

اس وقت 24 ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشن فعال ہیں۔ کراچی سے پشاور تک موٹروے نیٹ ورک پر تقریباً ہر 200 کلومیٹر کے فاصلے پر چارجرز نصب کیے گئے ہیں۔

کمپنی اس فاصلے کو کم کرکے 100 کلومیٹر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان چارجرز پر گاڑی کو چارج کرنے میں تقریباً 25 سے 45 منٹ لگتے ہیں۔

چیری کی نئی الیکٹرک گاڑی بھی متعارف ہوگی

دریں اثنا چیری ماسٹر پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 18 ستمبر کو پاکستان آٹو شو میں مکمل الیکٹرک گاڑی چیری کیو متعارف کرائے گی۔

کمپنی کے مطابق مالی سال 2026 میں نئی توانائی کی گاڑیوں کے شعبے میں 392 فیصد اضافہ ہوا اور اب یہ ملک کی مجموعی آٹو مارکیٹ کا تقریباً 15 فیصد بن چکا ہے۔

کمپنی پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی گھریلو سولر مارکیٹ سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کو گھروں میں پیدا ہونے والی اضافی شمسی بجلی کے زیادہ مؤثر استعمال کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

چیری ماسٹر پاکستان کے مطابق سالانہ تقریباً 20 ہزار کلومیٹر چلنے والی روایتی پٹرول گاڑی میں تقریباً 4 لاکھ 88 ہزار روپے کا ایندھن استعمال ہوسکتا ہے۔

کمپنی کے حقیقی استعمال پر مبنی حساب کے مطابق، تقریباً 7.2 کلومیٹر فی یونٹ کی کارکردگی پر اضافی شمسی بجلی سے چارج ہونے والی چیری کیو کی سالانہ توانائی لاگت تقریباً 30 ہزار روپے تک رہ سکتی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!