اتوار, 27 ستمبر 2026
  • Home  
  • مہنگی بجلی،لوڈ شیڈنگ کا عذاب ، حکومت کا آئی پی پیز سے مزید مہنگے معاہدوں کا انکشاف
- بزنس

مہنگی بجلی،لوڈ شیڈنگ کا عذاب ، حکومت کا آئی پی پیز سے مزید مہنگے معاہدوں کا انکشاف

اردو رپورٹ ڈیسک حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) پر انحصار کم کر رہی ہے، تاہم رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض پاور پلانٹس کے ساتھ 30 اور 40 سال تک کے نئے معاہدے کیے گئے ہیں۔ ایک […]

اردو رپورٹ ڈیسک

حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) پر انحصار کم کر رہی ہے، تاہم رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض پاور پلانٹس کے ساتھ 30 اور 40 سال تک کے نئے معاہدے کیے گئے ہیں۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مختلف آئی پی پیز کے معاہدوں کی مدت اور حیثیت کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی 2025 میں 4 آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کیے۔

جامشورو کول پاور پلانٹ کے ساتھ 30 سالہ معاہدہ

رپورٹ کے مطابق حکومت نے 30 جولائی 2025 کو جامشورو کول پاور پلانٹ کے ساتھ 30 سالہ معاہدہ کیا۔

وزارت توانائی کی دستاویزات کے مطابق 2015 سے 2024 کے دوران 37 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے چارجز کے علاوہ مجموعی طور پر 3.452 ٹریلین روپے کے کیپیسٹی پیمنٹس کی گئیں۔

آئی پی پیز کو کھربوں روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس

دستاویزات کے مطابق صرف مالی سال 2023-24 کے دوران آئی پی پیز کو 979 ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کی گئیں۔

37 آئی پی پیز کو مالی سال 2023 میں 655 ارب روپے، 2022 میں 336 ارب روپے، 2021 میں 365 ارب روپے، 2020 میں 355 ارب روپے، 2019 میں 234 ارب روپے، 2018 میں 169 ارب روپے، 2017 میں 121 ارب روپے، 2016 میں 118 ارب روپے اور 2015 میں 117 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض آئی پی پیز کے معاہدے 2057 تک مؤثر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بعض کمپنیوں کو ادائیگیاں مزید کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

آئی پی پیز کے مالکان اور کیپیسٹی پیمنٹس کی تفصیلات

سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر اور 1999 سے 2002 تک جنرل پرویز مشرف کی کابینہ کے رکن رہنے والے عبدالرزاق داؤد آئی پی پی روش پاکستان پاور لمیٹڈ کے مالک ہیں۔ کمپنی کو گزشتہ 10 سال کے دوران 60.03 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔

عمران خان کے دور میں پٹرولیم کے بارے میں معاون خصوصی رہنے والے ندیم بابر 2 آئی پی پیز کے مالک ہیں۔ ان کی کمپنی صبا پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا تھا اور گزشتہ 10 سال کے دوران اسے 17.24 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔

ندیم بابر محمود گروپ کے اورینٹ پاور پروجیکٹ میں بھی شراکت دار ہیں۔ کمپنی کو 22 جولائی 2005 کو لائسنس جاری کیا گیا تھا اور اس کے ساتھ 229 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ 31 اگست 2032 تک کیا گیا۔ کمپنی کو گزشتہ 10 سال کے دوران 39 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔

منشا گروپ کے آئی پی پیز کو بھی اربوں روپے کی ادائیگیاں

کاروباری شخصیت میاں منشا کے منشا گروپ کے پاس 4 آئی پی پیز ہیں، جنہیں گزشتہ 10 سال کے دوران مجموعی طور پر 181.43 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔

منشا گروپ کی اے ای ایس لال پیر پرائیویٹ لمیٹڈ کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ کمپنی کے ساتھ 362 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ 25 اگست 2027 تک کیا گیا اور گزشتہ 10 سال میں اسے 49.38 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔

اے ای ایس پاک جنریشن پرائیویٹ کمپنی کو بھی 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ کمپنی کے ساتھ 365 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ 25 اگست 2026 تک کیا گیا اور اسے گزشتہ 10 سال کے دوران 50.83 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔

منشا گروپ کے نشات چونیاں پاور پروجیکٹ کو 6 ستمبر 2007 کو لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ کمپنی کے ساتھ 200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ 29 جون 2035 تک کیا گیا اور گزشتہ 10 سال کے دوران اسے 41.42 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔

نشات پاور پروجیکٹ کو بھی 6 ستمبر 2007 کو لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ کمپنی کے ساتھ 200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ 30 دسمبر 2034 تک کیا گیا اور گزشتہ 10 سال کے دوران اسے 39.80 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔

چینی آئی پی پیز کو بھی بھاری کیپیسٹی پیمنٹس

چائنا پاور ہب جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو مالی سال 2023-24 کے دوران 100.37 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ رقم 100.18 ارب روپے تھی۔

ایک اور چینی آئی پی پی، ہوانگ شان ڈونگ روئی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو مالی سال 2023-24 میں 100.13 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے، جبکہ مالی سال 2022-23 میں اسے 100.02 ارب روپے ادا کیے گئے۔

کول بلاک 1 پاور جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو مالی سال 2023-24 کے دوران 100.59 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ رقم 18 کروڑ روپے تھی۔

پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو گزشتہ مالی سال کے دوران 100.20 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے، جبکہ مالی سال 2022-23 میں اسے 77 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔

آئی پی پیز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں اور کیپیسٹی چارجز کی مد میں بھاری ادائیگیوں کے باعث بجلی کی قیمتوں اور صارفین پر پڑنے والے مالی بوجھ کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آئی پی پیز کے معاہدوں کا جائزہ لے رہی ہے اور بجلی کی لاگت کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!