اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) کو اونیک (ONIC) کی نئی سمز اور ای سمز جاری کرنے، نئے کنکشنز فعال کرنے، نئی سبسکرپشنز لینے اور متعلقہ مارکیٹنگ و تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا ہے۔
پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو موجودہ اونیک صارفین کو تین ماہ کے اندر پی ٹی ایم ایل میں منتقل کرنے کی مہلت دی ہے۔ اس دوران صارفین کا ڈیٹا اور ریکارڈ محفوظ رکھنے کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
اونیک کی خدمات متاثر نہیں ہوں گی
اونیک نے اپنے ایک سرکاری بیان میں صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی خدمات میں کوئی خلل نہیں آیا اور صارفین بدستور بلا تعطل خدمات استعمال کر سکتے ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ وہ اپنے صارفین کو خدمات فراہم کرنے اور رابطے، سروس اور معاونت کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔ او این آئی سی کے مطابق صارفین اس کی اولین ترجیح ہیں اور کمپنی ان کے مسلسل اعتماد پر شکر گزار ہے۔
پی ٹی اے نے تعمیلی رپورٹ طلب کر لی
پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو ہدایت کی ہے کہ وہ سات کاروباری دنوں کے اندر ایک تعمیلی رپورٹ جمع کرائے۔ رپورٹ میں حکم کے تحت روکی گئی سرگرمیوں کی تصدیق اور اس پر عمل درآمد کے لیے کیے گئے اقدامات کی وضاحت شامل ہونی چاہیے۔
پی ٹی اے کے آٹھ صفحات پر مشتمل حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ او این آئی سی کی الگ برانڈنگ، مخصوص پیکیجز، علیحدہ موبائل ایپ، بلنگ اور صارفین کے انتظام کے نظام، جبکہ براہِ راست صارفین سے متعلق آپریشنز موجود ہیں۔ ان خصوصیات کی وجہ سے اونیک کا کاروباری ماڈل موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) سے مماثلت رکھتا ہے۔
ڈی ٹی ایم ایس کا کردار
پی ٹی اے نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی مینجمنٹ سروسز (ڈی ٹی ایم ایس) کے کردار کو بھی اجاگر کیا، جو اونیک کی مارکیٹنگ، صارفین کے حصول، صارف کی شناخت کی تصدیق، سمز کی ترسیل، فروخت اور صارفین کی معاونت کے امور سنبھالتی ہے۔
پی ٹی ایم ایل کے ساتھ معاہدے کے تحت ڈی ٹی ایم ایس کو پہلے تین سال کے دوران متعلقہ آمدنی کا 55 فیصد حصہ ملنے کا حق حاصل ہے۔
اونیک کے مستقبل کے لیے دو راستے
پی ٹی اے کے مطابق پی ٹی ایم ایل او این آئی سی کو جاری رکھنے کے لیے دو میں سے ایک راستہ اختیار کر سکتی ہے۔
- او این آئی سی کو مکمل طور پر اپنی موجودہ موبائل آپریٹر لائسنس کے تحت اپنی ہی مصنوعات یا برانڈ کے طور پر چلایا جائے اور وہ خصوصیات ختم کی جائیں جو اسے ایک علیحدہ ایم وی این او بناتی ہیں۔
- ایم وی این او لائسنس حاصل کیا جائے اور او این آئی سی کا موجودہ آپریٹنگ ڈھانچہ برقرار رکھا جائے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا کہ او این آئی سی کی الگ برانڈنگ، مخصوص پیکیجز، ڈیجیٹل پلیٹ فارم، بلنگ نظام، صارفین کے انتظام اور صارفین کی معاونت کے انتظامات اسے ایم وی این او کی خصوصیات فراہم کرتے ہیں۔
موجودہ صارفین کی منتقلی اور ذمہ داریاں
پی ٹی اے کے مطابق جب تک اونیک کے آپریشنز کو باقاعدہ قانونی و ضابطہ جاتی حیثیت نہیں دی جاتی، پی ٹی ایم ایل اپنی ضابطہ جاتی، تکنیکی، صارفین کے تحفظ، سیکیورٹی اور قومی سلامتی سے متعلق ذمہ داریوں کی پابند رہے گی۔
حکم نامے کے تحت تمام موجودہ او این آئی سی صارفین کو تین ماہ کے اندر پی ٹی ایم ایل میں منتقل کرنا ہوگا، جبکہ اس عمل کے دوران ان کے ڈیٹا اور ریکارڈ کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوگا۔
پی ٹی اے وضاحت
عوام اور سوشل میڈیا صارفین میں پاکستان میں ’’او این آئی سی‘‘ کے نام سے ایک نئے موبائل آپریٹر کی جانب سے خدمات شروع کرنے سے متعلق پائی جانے والی حالیہ غلط فہمیوں کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان میں موبائل خدمات فراہم کرنے کے لیے کسی نئے آپریٹر کو موبائل سیلولر لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔
پاکستان ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل)، جو پہلے ہی ’’یوفون‘‘ برانڈ کی مالک ہے، ایک نئی ڈیجیٹل مصنوعات ’’او این آئی سی‘‘ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا مقصد مارکیٹ کے اس ڈیجیٹل طبقے کی ضروریات پوری کرنا ہے جو روایتی خدمات کی فراہمی کے بجائے اعلیٰ درجے کے صارفین کے لیے آسان اور ڈیجیٹل رابطے کو ترجیح دیتا ہے۔
پی ٹی اے نے بتایا کہ وہ او این آئی سی کے اجرا سے متعلق پی ٹی ایم ایل کے منصوبوں پر اس کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ضابطہ جاتی پابندیوں اور صارفین کے تحفظ کے عزم کے تحت پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو تمام ضروری قانونی و ضابطہ جاتی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی ہے۔


