اردو رپورٹ ڈیسک
بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے 2024 کی طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن میں مبینہ کردار پر عوامی لیگ کے 7 سینئر رہنماؤں کو سزائے موت سنا دی ہے۔
غیر موجودگی میں سزا پانے والوں میں عوامی لیگ کے سابق جنرل سیکریٹری عبیدالقادر اور سابق وزیر محمد علی عرفات بھی شامل ہیں۔
Bangladesh tribunal hands death sentences to seven Awami League leaders over 2024 protest violencehttps://t.co/38DmHwFzmb
— The Telegraph (@ttindia) September 15, 2026
ٹریبونل کا 7 رہنماؤں کو مجرم قرار دینے کا فیصلہ
جسٹس نذرالاسلام چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی ٹریبونل نے ساتوں ملزمان کو قتل، قتل پر اکسانے اور تشدد کو ہوا دینے سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔
سزائے موت پانے والے دیگر افراد میں اے ایف ایم بہاؤالدین نسیم، شیخ فضل شمس پراش، معین الحق خان نکھل، صدام حسین اور شیخ ولی عاصف اینان شامل ہیں۔
The International Crimes Tribunal-2 has sentenced Awami League General Secretary Obaidul Quader and six others to death over crimes against humanity committed during the 2024 July Uprising. The six others are Mohammad Ali Arafat, AFM Bahauddin Nasim, Sheikh Fazle Shams Parash,… pic.twitter.com/1WTKGXJMmm
— Centrist Nation TV (@centristnattv) September 15, 2026
استغاثہ کی جانب سے فیصلے کا خیرمقدم
استغاثہ کے وکیل محمد امین الاسلام نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلے سے مطمئن ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں حکومت مخالف طلبہ تحریک کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ وہ اگست 2024 میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہوئی تھیں اور اب بھی وہاں موجود ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا حکم
عدالت نے 5 مجرم قرار دیے گئے افراد کو اپنے اثاثوں کا نصف احتجاج کے دوران ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کو معاوضے کے طور پر دینے کا بھی حکم دیا ہے۔
ریاست کی جانب سے مقرر کردہ دفاعی وکیل ایم حسن امام نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان قتل کی کارروائیوں میں براہ راست ملوث نہیں تھے اور انہیں سزائے موت کے بجائے کم سزا دی جا سکتی تھی۔
احتجاج سے متعلق مقدمات میں سزاؤں کی تعداد 68 ہوگئی
تازہ فیصلے کے بعد 2024 کی احتجاجی تحریک سے متعلق مقدمات میں سزا پانے والے افراد کی تعداد 68 ہوگئی ہے، جن میں 22 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
ان میں سے صرف 4 افراد زیر حراست ہیں، جبکہ شیخ حسینہ نے عدالت کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
عوامی لیگ کے خلاف مزید کارروائیاں
بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ پولیس نے جیسور اور منشی گنج میں عوامی لیگ کے 58 رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔
جیسور میں 27 افراد کو مبینہ تخریبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران منشیات، دیسی ساختہ بم نما اشیا اور بم بنانے کا سامان بھی برآمد ہوا۔
منشی گنج میں پولیس نے مزید 31 عوامی لیگ کارکنوں کو مبینہ طور پر احتجاجی ریلی نکالنے کی تیاری کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔


