اردو رپورٹ ڈیسک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسی تبدیلیوں کے بعد امریکا میں الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹریوں کے کارخانوں میں سرمایہ کاری متاثر ہوئی ہے، جبکہ اربوں ڈالر کے منصوبوں کی منسوخی سے ہزاروں ملازمتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
رائٹرز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2024 کے دوران امریکا کی آٹو مینوفیکچرنگ صنعت میں سرمایہ کاری دگنی سے زیادہ ہوئی، جس میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کا اضافی سرمایہ کاری میں سب سے بڑا حصہ تھا۔
سرمایہ کاری میں نمایاں کمی
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے منسوخ ہوئے، جبکہ نئی سرمایہ کاری کے اعلانات تقریباً 6.5 ارب ڈالر تک محدود رہے۔ یہ 2023 میں اعلان کردہ 55 ارب ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
جنوری 2025 سے 24 اگست 2026 تک منسوخ کیے گئے منصوبوں سے تقریباً 27 ہزار ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع تھی۔
رپورٹ کے مطابق اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بعض منصوبوں میں متوقع ملازمتوں کی تعداد درج نہیں تھی، جبکہ ان منصوبوں کو بھی شامل نہیں کیا گیا جنہیں مکمل طور پر منسوخ کرنے کے بجائے محدود کر دیا گیا۔
اوہائیو کی بیٹری فیکٹری متاثر
امریکا میں اس صورتحال کی ایک نمایاں مثال اوہائیو کا لارڈز ٹاؤن ہے، جہاں جنرل موٹرز اور جنوبی کوریا کی ایل جی انرجی سلوشن کے مشترکہ منصوبے کے تحت 2.3 ارب ڈالر کی بیٹری فیکٹری قائم کی گئی تھی۔
الیکٹرک گاڑیوں کی کم فروخت کے باعث فیکٹری میں جنوری میں کام روک دیا گیا۔ تقریباً 480 ملازمین کو غیر معینہ مدت کے لیے کام سے فارغ کیا گیا، جبکہ مزید 850 کارکنوں کو کئی ماہ تک کام نہ ملنے کی اطلاع دی گئی۔
پالیسی تبدیلیوں کا سرمایہ کاری پر اثر
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا میں الیکٹرک گاڑیوں کی طلب ٹیکس مراعات کے خاتمے سے پہلے ہی توقعات کے مطابق نہیں بڑھ رہی تھی۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے سبسڈی کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کی ’’مصنوعی طلب‘‘ پیدا کی۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ضابطوں میں کمی، ٹیکسوں میں کمی اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے امریکا میں نئی صنعتی سرمایہ کاری لانے پر توجہ دے رہی ہے۔
آٹو صنعت میں ملازمتوں میں کمی
رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 کے بعد امریکا کی آٹو مینوفیکچرنگ صنعت میں مجموعی ملازمتوں میں بھی 1.3 فیصد کمی ہوئی اور اگست میں یہ تعداد تقریباً 9 لاکھ 63 ہزار رہ گئی۔
بعض کمپنیاں بند یا کم استعمال ہونے والی بیٹری فیکٹریوں کو توانائی ذخیرہ کرنے والی بیٹریاں تیار کرنے کے لیے تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
تاہم اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے، جبکہ توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے کی طلب کو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے تیار کی گئی تمام پیداواری صلاحیت استعمال کرنے کے لیے ناکافی سمجھا جا رہا ہے۔


