اردو رپورٹ ڈیسک
امریکی محکمہ خارجہ نے ویزا درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا جانچ کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے مزید 3 ویزا زمروں کو اس عمل میں شامل کردیا ہے۔
نئے ضابطے کے تحت یکم اکتوبر سے آئی ویزا، ٹی این ویزا اور ٹی ڈی ویزا کے درخواست گزاروں کی آن لائن موجودگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ متعلقہ درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پروفائلز کی رازداری کی ترتیبات کو ’’عوامی‘‘ یا ’’اوپن‘‘ رکھیں تاکہ جانچ کے عمل کے دوران ان کا جائزہ لیا جا سکے۔
یکم اکتوبر سے کون متاثر ہوگا؟
آئی ویزا غیر ملکی میڈیا نمائندگان کے لیے جاری کیا جاتا ہے، جن میں پریس، ریڈیو، فلم اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق آئی ویزا رکھنے والے افراد عارضی طور پر امریکا کا دورہ کرتے ہیں اور انہیں اپنے غیر ملکی میڈیا ادارے کی جانب سے معلوماتی یا تعلیمی نوعیت کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت ہوتی ہے۔
ایسے افراد امریکا میں کسی ایسے میڈیا ادارے کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا مرکزی دفتر امریکا سے باہر واقع ہو۔ ان کی سرگرمیاں عموماً خبروں کے حصول اور موجودہ حالات کی رپورٹنگ سے متعلق ہوتی ہیں۔
ٹی این ویزا اہل کینیڈین اور میکسیکن شہریوں کو پیشہ ورانہ سطح پر کاروباری سرگرمیوں کے لیے عارضی طور پر امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ ٹی ڈی ویزا ان کے شریک حیات اور غیر شادی شدہ نابالغ بچوں کے لیے ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا جانچ کا دائرہ پہلے بھی بڑھایا گیا
امریکی ویزا درخواستوں کی سوشل میڈیا جانچ کا دائرہ پہلے ہی متعدد ویزا زمروں تک پھیلایا جا چکا ہے، جن میں سفارتی ویزے اے-3 اور سی-3، طلبہ کے ایف-1 اور ایم-1 ویزے، عارضی کارکنوں کے ایچ-1 بی ویزے، تبادلہ پروگرام کے جے-1 ویزے، منگیتر کے کے-1 ویزے، ثقافتی تبادلے کے کیو ویزے اور مذہبی کارکنوں کے آر-1 ویزے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ گواہوں اور متاثرین کے لیے مخصوص ایس، ٹی اور یو ویزا زمروں کو بھی اس جانچ میں شامل کیا گیا ہے۔
ابتدائی طور پر یہ جانچ ایچ-1 بی، ایچ-4، ایف، ایم اور جے ویزا درخواست گزاروں تک محدود تھی، تاہم مارچ 2026 میں اس کا دائرہ سفارت کاروں، تربیتی پروگرام کے شرکا، منگیتر، ثقافتی تبادلے کے شرکا، مذہبی کارکنوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزا درخواست گزاروں تک بڑھایا گیا تھا۔
محکمہ خارجہ کا مؤقف
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزا جانچ کے دوران تمام دستیاب معلومات استعمال کی جاتی ہیں تاکہ ایسے درخواست گزاروں کی نشاندہی کی جا سکے جو قومی سلامتی یا عوامی تحفظ کے لیے ناقابل قبول خطرہ بن سکتے ہیں۔
محکمے کے مطابق ہر ویزا درخواست کا فیصلہ قومی سلامتی سے متعلق معاملہ بھی ہوتا ہے اور حکام اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ درخواست گزار کسی نقصان کا ارادہ تو نہیں رکھتے اور ویزا کی شرائط کی پابندی کرنے کا حقیقی ارادہ رکھتے ہیں۔
محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی ویزا حکومت کی صوابدید پر دیا جانے والا استحقاق ہے، کسی فرد کا قانونی حق نہیں۔
درخواست گزاروں کے لیے ممکنہ اثرات
نئے شامل کیے گئے ویزا زمروں سے متعلق آجروں اور انفرادی درخواست گزاروں کو پہلے سے موجود زمروں کی طرح زیادہ جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس میں درخواستوں کی کارروائی میں زیادہ وقت لگنا، انٹرویو کے دوران اضافی جانچ اور انتظامی کارروائی کے باعث تاخیر کا امکان شامل ہے۔
یہ خبر امریکی محکمہ خارجہ کی 18 ستمبر 2026 کی سرکاری اطلاع اور اس سے قبل جاری کردہ متعلقہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ ویزا قوانین اور ان کے نفاذ کی تاریخیں تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے درخواست دینے سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کی سرکاری ویب سائٹ سے موجودہ تقاضوں کی تصدیق ضروری ہے۔


