اردو رپورٹ ڈیسک
ایم ڈی کیٹ 2026 کا جعلی پرچہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر ایس ٹی ایس نے امیدواروں کو غیر مصدقہ امتحانی مواد پر اعتماد نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایس ٹی ایس کے مطابق سوشل میڈیا پر شیئر کیا جانے والا ایم ڈی کیٹ 2026 کا پرچہ جعلی ہے۔ امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جعلی پرچوں اور گمراہ کن مواد سے دور رہیں اور اپنی تیاری پر توجہ مرکوز رکھیں۔
ایم ڈی کیٹ 2026 ٹیسٹ میں ملک بھر کے 34 شہروں میں امتحان کا کامیاب انعقاد جس میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدوار شریک ۔
جعلی مواد سے محتاط رہنے کی ہدایت
ایس ٹی ایس نے امیدواروں کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی خبروں اور غیر مصدقہ معلومات سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
امتحانی ادارے نے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اپنے امتحانی مراکز پہنچیں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے اپنی تیاری پر توجہ دیں۔ ایس ٹی ایس کے مطابق محنت اور تیاری کامیابی کی بنیاد ہیں۔
34 شہروں میں ایم ڈی کیٹ 2026 کا انعقاد
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے زیر اہتمام ایم ڈی کیٹ 2026 کا امتحان اتوار کو پاکستان کے 34 شہروں کے علاوہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم بین الاقوامی امتحانی مرکز میں بھی بیک وقت منعقد ہوا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2026 کے لیے تقریباً ایک لاکھ 38 ہزار 160 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی۔ یہ امیدوار میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے خواہش مند ہیں۔
امتحان 16 اگست سے 20 ستمبر تک کیوں مؤخر ہوا؟
ایم ڈی کیٹ 2026 کا امتحان ابتدا میں 16 اگست 2026 کو ہونا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اسے 20 ستمبر تک مؤخر کردیا گیا۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق سینیٹ کی صحت سے متعلق قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے امتحان اور اس کے شیڈول سے متعلق طلبہ کی جانب سے موصول ہونے والی سینکڑوں شکایات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
پی ایم ڈی سی حکام نے اس وقت واضح کیا تھا کہ امتحان کی تاریخ کے علاوہ اہلیت کے معیار، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور دیگر شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
صوبوں کے لحاظ سے امیدواروں کی تعداد
پنجاب سے 49,199، خیبر پختونخوا سے 38,841 اور سندھ سے 34,233 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے۔
بلوچستان سے 9,923، آزاد جموں و کشمیر سے 2,761، گلگت بلتستان سے 1,721 اور اسلام آباد سے 1,245 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے، جبکہ ریاض کے امتحانی مرکز میں 237 طلبہ نے امتحان دیا۔
مختلف صوبوں کے لیے الگ پرچے
ہر صوبے کے لیے الگ پرچے تیار کیے گئے اور ہر پرچے کے کم از کم دو نسخے رکھے گئے۔ ہر پرچے میں 180 سوالات شامل تھے، جو تقریباً 8,000 سوالات پر مشتمل سوالیہ بینک سے تیار کیے گئے۔
امتحانی مواد کی تیاری میں تقریباً 80 ماہرین تعلیم نے حصہ لیا، جبکہ عملی انتظامات صوبائی حکام اور نامزد جامعات کے سپرد کیے گئے۔
پنجاب میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، سندھ میں سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، خیبر پختونخوا میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور بلوچستان میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کو امتحانی انتظامات کی ذمہ داری دی گئی۔
اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ریاض کے مرکز کے انتظامات شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے سپرد کیے گئے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ماضی کے مقابلے میں رواں سال ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ردعمل نسبتاً محتاط اور معلوماتی رہا۔
2023 میں ایم ڈی کیٹ کی تاریخ سوشل میڈیا پر نمایاں موضوع بن گئی تھی اور طلبہ نے تیاری کے لیے ناکافی وقت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ رواں سال پی ایم ڈی سی کی جانب سے بروقت اور تفصیلی ہدایات جاری کی گئیں۔
پی ایم ڈی سی نے طلبہ اور عوام کو پہلے ہی غیر مصدقہ سوشل میڈیا صفحات، افواہوں اور جعلی خبروں سے محتاط رہنے اور معلومات کے لیے سرکاری ذرائع پر انحصار کرنے کی ہدایت کی تھی۔
امتحانی انتظامات پر ماہرین کی رائے
تعلیمی ماہرین کے مطابق ملک بھر میں ایک ہی دن اور ایک ہی وقت پر امتحان کا انعقاد، مختلف صوبوں کے لیے الگ پرچوں اور متعدد نسخوں کے استعمال کے ساتھ، امتحان میں شفافیت کے لیے معاون ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 8,000 سوالات پر مشتمل بڑا سوالیہ بینک اور 80 سے زائد ماہرین کی شمولیت پرچہ لیک ہونے یا نقل کے امکانات کو کم کرسکتی ہے۔
تاہم بورڈ امتحانات اور داخلہ ٹیسٹ کے شیڈول میں ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق طلبہ کے خدشات بدستور زیر بحث ہیں اور مستقبل میں اس حوالے سے مزید اصلاحات پر غور کیا جاسکتا ہے۔


