اردو رپورٹ ڈیسک
سینیٹ میں پیش کی گئی دستاویزات میں پاکستان میں مختلف ذرائع سے بجلی کی پیداوار کی لاگت میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ واپڈا کے ڈیموں سے بجلی 2.70 روپے فی یونٹ تک کی لاگت پر پیدا ہوئی، جبکہ بعض نجی آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں یعنی آئی پی پیز کی بجلی کی قیمت 34 روپے فی یونٹ سے بھی زیادہ رہی۔
دستاویزات کے مطابق زیرِ جائزہ مدت کے دوران حکومت نے واپڈا کو 34.5 ارب یونٹ بجلی کے عوض 186 ارب روپے ادا کیے، جبکہ نجی آئی پی پیز کو 49.8 ارب یونٹ بجلی کی مد میں ایک کھرب 4 ارب روپے ادا کیے گئے۔
آئی پی پیز کو گنجائش کی مد میں بھاری ادائیگیاں
دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے دوران آئی پی پیز کو گنجائش کی مد میں ایک کھرب 30 ارب روپے سے زائد بھی ادا کیے گئے۔
ڈیموں سے بجلی کی پیداوار سب سے سستی
دستاویزات میں شامل بجلی گھروں میں تربیلا ہائیڈل پاور منصوبہ بجلی پیدا کرنے کا سب سے سستا ذریعہ رہا، جہاں فی یونٹ لاگت 2.70 روپے ریکارڈ کی گئی۔
منگلا ہائیڈل پاور منصوبے سے بجلی کی پیداوار کی لاگت 3.75 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ تمام ڈیموں سے بجلی کی اوسط پیداواری لاگت 5.39 روپے فی یونٹ بتائی گئی۔
نیوکلیئر اور تھر کوئلے سے بجلی کی لاگت
چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار کی لاگت 6.76 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ مقامی تھر کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی 19.03 روپے فی یونٹ کی لاگت پر فراہم کی گئی۔
درآمدی کوئلے سے بجلی مزید مہنگی
دستاویزات کے مطابق درآمدی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کی لاگت نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
ساہیوال کول پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداواری لاگت 34.17 روپے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ پورٹ قاسم پاور پلانٹ سے بجلی کی لاگت 32.16 روپے فی یونٹ رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق مختلف ذرائع سے بجلی کی پیداوار کی لاگت میں نمایاں فرق موجود ہے، جس میں ڈیموں سے پیدا ہونے والی بجلی کم لاگت جبکہ بعض درآمدی کوئلے سے چلنے والے منصوبوں کی بجلی نسبتاً زیادہ لاگت پر پیدا ہوئی۔


